ABS24
نیوز
ABS24 News Network
💰 زرمبادلہ
🇺🇸 امریکی ڈالر ₨278.36 🇪🇺 یورو ₨322.49 🇬🇧 پاؤنڈ ₨373.66 🇸🇦 سعودی ریال ₨74.23 🇦🇪 درہم ₨75.80 🇨🇳 چینی یوان ₨41.12

ایران کی خوفناک صلاحیت پر سابق امریکی اہلکار کا بیان

👁️ 0 مرتبہ پڑھا گیا
ایران کی خوفناک صلاحیت پر سابق امریکی اہلکار کا بیان

مشرقِ وسطیٰ سے متعلق امور کے سابق امریکی مذاکرات کار ایرون ڈیوڈ ملر نے ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ ناکام مذاکرات پر اہم بیان دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے بغیر کسی نتیجے کے خاتمے کے بعد ایران اس وقت امریکا کے مقابلے میں زیادہ مضبوط پوزیشن میں دکھائی دیتا ہے۔

ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ایران کسی بھی قسم کی جلد بازی میں نہیں ہے اور بظاہر وہ ایک سست مگر حساب شدہ حکمت عملی پر عمل کر رہا ہے۔ ان کے مطابق ایران کے پاس اب بھی بڑی مقدار میں افزودہ یورینیم موجود ہے، جو اسے اسٹریٹجک برتری فراہم کرتا ہے۔

ایرون ڈیوڈ ملر نے مزید کہا کہ ایران نے اپنی جغرافیائی حیثیت کو بھی مؤثر ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی صلاحیت ظاہر کی ہے۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز پر اس کا اثر و رسوخ عالمی توانائی کی ترسیل کے تناظر میں انتہائی اہمیت رکھتا ہے، جو اسے بین الاقوامی سطح پر ایک مضبوط مقام دیتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایرانی حکومت نہ صرف برقرار رہی ہے بلکہ اس نے سیکیورٹی صورتحال کو متاثر کرنے کی نمایاں صلاحیت بھی دکھائی ہے۔ یہی عوامل ایران کے مضبوط کارڈز تصور کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران ممکنہ طور پر کسی معاہدے کے بغیر مذاکرات ختم کرنے کے بجائے امریکا اور اسرائیل کی ممکنہ فوجی کارروائیوں کا خطرہ مول لینے کو ترجیح دے سکتا ہے۔

واضح رہے کہ جے ڈی وینس کی قیادت میں امریکی وفد اور ایرانی حکام کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے طویل مذاکرات بغیر کسی حتمی معاہدے کے ختم ہو گئے۔ امریکی وفد مذاکرات کے بعد واپس روانہ ہو گیا جبکہ ایرانی وفد بھی تہران لوٹ چکا ہے۔

مذاکرات کی اس ناکامی کے بعد دو ہفتوں سے جاری نازک جنگ بندی کے مستقبل پر سوالات اٹھنے لگے ہیں، اور خطے کی صورتحال ایک بار پھر غیر یقینی کا شکار ہو گئی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں پر * کا نشان لگا ہوا ہے۔