چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اسلام آباد معاہدے پر دستخط کا قریب آ جانا ایک تاریخی لمحہ ہے اور اس سے عالمی سطح پر پاکستان پر توجہ مزید مضبوط ہوئی ہے۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ سیاسی اختلافات اور شکایات کا حل صرف جمہوری، آئینی اور پرامن ذرائع سے نکالا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق پارلیمان اور سیاسی عمل ہی ایسے معاملات کے حل کے مناسب فورمز ہیں، اور ان کی جماعت سیاسی حل کے لیے پُرعزم ہے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ ان کی جماعت الیکشن کمیشن سے قبل از وقت انتخابی شیڈول واپس لینے کا مطالبہ کر چکی ہے، جبکہ زیر التوا شکایات کے ازالے کے لیے ٹروتھ اینڈ ریکنسیلی ایشن کمیشن کے قیام کی کوشش کی جائے گی تاکہ معاملات کو منصفانہ طریقے سے آگے بڑھایا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ NFC فارمولے میں کسی تبدیلی کی ضرورت نہیں، اور سندھ و بلوچستان تین سال تک وفاق کو اپنا حصہ دیتے رہیں گے۔
آزاد کشمیر کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہاں جاری بے چینی نہ صرف کشمیر کاز بلکہ پاکستان کی ساکھ کو بھی متاثر کر رہی ہے۔ ان کے مطابق موجودہ حالات دشمن عناصر کے لیے فائدہ اٹھانے کا موقع فراہم کر سکتے ہیں، اس لیے تمام فریقین کو پرامن حل کی طرف جانا چاہیے۔
انہوں نے مظاہرین سے اپیل کی کہ احتجاج کو پرامن طور پر ختم کیا جائے اور قانون کو ہاتھ میں لینے والے افراد خود کو حکام کے حوالے کریں تاکہ قانونی عمل آگے بڑھ سکے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ حکومت اور تمام فریقین کے اتفاق سے آزاد کشمیر میں صورتحال سے متعلق نوٹیفکیشنز پر نظرثانی کی جا سکتی ہے، تاہم قانون کی حکمرانی اور غیر قانونی اقدامات میں ملوث افراد کو جوابدہ ٹھہرانے کے معاملے پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔