حضرت عمر فاروقؓ کے نام والا کتبہ توجہ کا مرکز بن گیا-سعودی عرب کے مدینہ ریجن میں جاری آثارِ قدیمہ کے ایک بڑے سروے کے دوران سینکڑوں تاریخی شواہد دریافت ہونے کا اعلان کیا گیا ہے،
جن میں ایک ایسا کتبہ بھی شامل ہے جس پر خلیفۂ دوم حضرت عمر فاروقؓ کا نام درج بتایا جاتا ہے۔
سعودی ہیریٹیج کمیشن کے مطابق المہد گورنریٹ میں کیے گئے سروے کے دوسرے مرحلے کے دوران متعدد نئے آثارِ قدیمہ کے مقامات کی نشاندہی کی گئی۔ یہ تحقیق السویریقیہ، المویہیہ اور حضہ سمیت مختلف علاقوں میں انجام دی گئی۔
سروے کے نتائج میں اسلامی اور ثمودی دور کے کتبے، چٹانوں پر کندہ نقوش، پتھروں سے تعمیر شدہ قدیم ڈھانچے، تاریخی محلات، قدیم قافلہ راستے اور کنویں شامل ہیں، جو خطے کی تاریخی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔
Every stone in Al-Mahd bears a memory, and every inscription preserves a story from a history that stretches back to the earliest days of the Islamic state.
Today, we unveil the secrets of our past and pass them on to future generations.#SaudiHeritageCommission pic.twitter.com/knAMVaC0nG
— هيئة التراث (@MOCHeritage) June 9, 2026
حکام کے مطابق دریافت ہونے والے آثار میں عربی شاعری سے متعلق نقوش بھی شامل ہیں، جبکہ حضرت عمر فاروقؓ کے نام سے منسوب کتبہ خصوصی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔
سعودی ہیریٹیج کمیشن کا کہنا ہے کہ مملکت کے ثقافتی اور تاریخی ورثے کے تحفظ کے لیے مختلف منصوبوں پر کام جاری ہے، اور مستقبل میں بھی آثارِ قدیمہ کی تلاش اور دستاویز بندی کے عمل کو وسعت دی جائے گی۔