ABS24
نیوز
ABS24 News Network
💰 زرمبادلہ
🇺🇸 امریکی ڈالر ₨278.34 🇪🇺 یورو ₨323.15 🇬🇧 پاؤنڈ ₨373.66 🇸🇦 سعودی ریال ₨74.22 🇦🇪 درہم ₨75.79 🇨🇳 چینی یوان ₨41.11

نائجیریا میں عیسائیوں کے قتل عام پر ٹرمپ کا سخت ردعمل

👁️ 0 مرتبہ پڑھا گیا
نائجیریا میں عیسائیوں کے قتل عام پر ٹرمپ کا سخت ردعمل

نائجیریا میں عیسائیوں کے قتل عام پر ٹرمپ کا سخت ردعمل

 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نائجیریا میں عیسائیوں کے قتلِ عام پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے نائجیریا کی حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے فوری کارروائی نہ کی تو امریکا سخت فوجی اقدام اٹھائے گا۔

ہفتے کی رات اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل” پر جاری بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے امریکی محکمہ دفاع کو تیز اور فیصلہ کن کارروائی کی تیاری کا حکم دے دیا ہے۔ ان کے مطابق، امریکا نائجیریا کو دی جانے والی ہر قسم کی مالی امداد اور معاونت فی الفور بند کر دے گا۔

ٹرمپ نے کہا کہ اگر امریکا نے حملہ کیا تو وہ پوری قوت کے ساتھ ہوگا تاکہ اُن دہشت گردوں کو ختم کیا جا سکے جو عیسائیوں کے خلاف ظلم کر رہے ہیں۔ انہوں نے نائجیریا کی حکومت کو “بدنام ملک” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر اس نے جلد ایکشن نہ لیا تو نتائج خطرناک ہوں گے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، امریکی محکمہ دفاع اور وائٹ ہاؤس نے فی الحال ٹرمپ کے بیان پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ تاہم وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ وزارتِ جنگ کارروائی کی تیاری کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا، “یا تو نائجیریا عیسائیوں کی حفاظت کرے، یا ہم ان دہشت گردوں کو ختم کریں گے۔”

رپورٹس کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ نے حال ہی میں نائجیریا کو اُن ممالک کی فہرست میں دوبارہ شامل کیا ہے جو مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں میں ملوث سمجھے جاتے ہیں۔ اس فہرست میں چین، روس، میانمار، شمالی کوریا اور پاکستان بھی شامل ہیں۔

دوسری جانب نائجیریا کے صدر بولا احمد تینوبو نے ٹرمپ کے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ نائجیریا ایک معتدل اور مذہبی رواداری والا ملک ہے۔ ان کے مطابق، “ہمارا ملک ہر مذہب کے ماننے والوں کو یکساں حقوق دیتا ہے، اس لیے نائجیریا پر مذہبی تعصب کا الزام بے بنیاد ہے۔”

نائجیریا کی وزارتِ خارجہ نے بھی بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ حکومت دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے اور عالمی برادری کے ساتھ تعاون جاری رکھے گی۔ وزارت نے کہا کہ “ہم ہر شہری کے مذہبی اور شخصی حقوق کے تحفظ کے لیے کوشاں ہیں، یہی ہماری اصل طاقت ہے۔”

یاد رہے کہ نائجیریا میں شدت پسند تنظیم بوکوحرام گزشتہ 15 برس سے سرگرم ہے، جس کے حملوں میں ہزاروں افراد مارے جا چکے ہیں۔ انسانی حقوق کے اداروں کے مطابق، زیادہ تر متاثرین مسلمان ہیں۔

اس کے برعکس، ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ “نائجیریا میں ہزاروں عیسائی انتہا پسند مسلمانوں کے ہاتھوں قتل کیے جا رہے ہیں”، تاہم انہوں نے اس دعوے کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔

ٹرمپ کے بیان کے بعد امریکی کانگریس کے ری پبلکن اراکین نے ان کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ نائجیریا میں عیسائیوں پر بڑھتے مظالم عالمی برادری کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، اگر ٹرمپ نے واقعی فوجی کارروائی کا فیصلہ کیا تو یہ افریقہ میں امریکا کی ایک نئی مداخلت کی شروعات ثابت ہو سکتی ہے — ایسے وقت میں جب خطے میں امریکی اثر و رسوخ پہلے ہی کمزور ہو چکا ہے۔

ابھی تک نائجیریا کی حکومت نے امریکی صدر کے اس سخت بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں پر * کا نشان لگا ہوا ہے۔