اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی حکومت نے امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے مجوزہ معاہدے کے متن اور شقوں سے آگاہی کے لیے باضابطہ درخواست دی تھی، تاہم امریکی حکام نے قومی سلامتی اور حساس سفارتی معاملات کا حوالہ دیتے ہوئے اس درخواست کو قبول نہیں کیا۔
امریکی حکام کے مطابق معاہدے سے متعلق بعض امور انتہائی حساس نوعیت کے ہیں، اس لیے انہیں فی الحال محدود دائرے میں رکھا جا رہا ہے۔ اسرائیلی حکام نے اس فیصلے کو غیر متوقع قرار دیتے ہوئے اس پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
دوسری جانب ایرانی میڈیا میں سامنے آنے والی غیر مصدقہ رپورٹس کے مطابق مجوزہ 14 نکاتی مسودے میں متعدد اہم شقیں شامل ہیں، جن میں بحری پابندیوں میں نرمی، تیل و پیٹروکیمیکل برآمدات پر پابندیوں کی معطلی، اور مختلف خطوں میں کشیدگی میں کمی سے متعلق نکات شامل بتائے جا رہے ہیں۔
رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ مذاکرات کے دوران منجمد اثاثوں کی مرحلہ وار رہائی اور اقتصادی منصوبوں پر ممکنہ پیش رفت پر بھی غور کیا جا رہا ہے، تاہم ان اطلاعات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
دونوں ممالک کی حکومتوں کی جانب سے تاحال ان تفصیلات کی باضابطہ توثیق نہیں کی گئی، جبکہ سفارتی سطح پر رابطے اور مشاورت کا سلسلہ جاری ہے۔