امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ زیر غور نیا معاہدہ خطے میں استحکام کے فروغ اور ایران کی ممکنہ جوہری عسکری صلاحیت کو محدود رکھنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
فرانس میں ایک اعلیٰ سطحی ملاقات کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ معاہدے کی حتمی منظوری سے قبل اسے امریکی قانون سازوں کے سامنے بھی پیش کیا جا سکتا ہے۔ ان کے بقول یہ سمجھوتہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے اور امن کے قیام میں مددگار ثابت ہوگا۔
ٹرمپ نے ماضی کے جوہری معاہدوں پر تنقید کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ سابقہ انتظامات مطلوبہ نتائج دینے میں کامیاب نہیں ہوئے تھے، جبکہ موجودہ مجوزہ معاہدہ زیادہ مؤثر اور واضح شرائط پر مبنی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران بھی خطے میں تناؤ کے خاتمے اور معمول کے اقتصادی و تجارتی روابط کی بحالی کا خواہاں ہے۔ ان کے مطابق معاہدے کی مزید تفصیلات جلد عوام کے سامنے لائی جائیں گی۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اس پیش رفت سے عالمی توانائی کی ترسیل کو سہولت مل سکتی ہے اور اہم بحری راستوں پر تجارتی سرگرمیوں کی روانی برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ معاہدہ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو اس کے اثرات صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی توانائی منڈیوں اور بین الاقوامی تجارت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔