دو پاکستانی نوجوانوں کے قتل کیس میں مہک بخاری کو ریلیف
لندن: برطانیہ میں دو پاکستانی نژاد نوجوانوں کے قتل کے مقدمے میں قید کاٹنے والی پاکستانی نژاد ٹک ٹاکر مہک بخاری کی سزا میں کمی کر دی گئی ہے۔
مہک بخاری نے عدالت میں اپنی سزا میں کمی کی درخواست دائر کی تھی، جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے قرار دیا کہ ابتدائی فیصلے کے وقت ملزمہ کی عمر اور ناپختگی کو مناسب طور پر مدنظر نہیں رکھا گیا ۔
مہک بخاری اور ان کی والدہ نسرین بخاری ستمبر 2023 سے جیل میں قید ہیں۔ عدالت نے پہلے مرحلے میں مہک کو 31 سال 8 ماہ اور نسرین بخاری کو 26 سال 9 ماہ قید کی سزا سنائی تھی۔
یاد رہے کہ فروری 2022 میں مہک بخاری، ان کی والدہ اور پانچ دیگر افراد پر الزام تھا کہ انہوں نے دو نوجوانوں ثاقب حسین اور ہاشم اعجازالدین کو ایک پارکنگ لاٹ میں بلایا، جہاں منصوبہ بند کارروائی کے نتیجے میں دونوں نوجوان ایک سڑک حادثے میں ہلاک ہوگئے۔
پولیس کے مطابق 45 سالہ نسرین بخاری کا ایک نوجوان سے ذاتی تعلق تھا، جو خاتون کے تعلق ختم کرنے پر مشتعل ہو گیا تھا۔ نوجوان کی جانب سے بلیک میلنگ اور بدنامی کی دھمکیوں کے بعد مہک بخاری نے والدہ کی مدد کے لیے یہ منصوبہ تیار کیا۔