ABS24
نیوز
ABS24 News Network
💰 زرمبادلہ
🇺🇸 امریکی ڈالر ₨278.34 🇪🇺 یورو ₨323.15 🇬🇧 پاؤنڈ ₨373.66 🇸🇦 سعودی ریال ₨74.22 🇦🇪 درہم ₨75.79 🇨🇳 چینی یوان ₨41.11

بھارت اپنے مظالم اور ریاستی سرپرستی چھپا نہیں سکتا،صائمہ سلیم

👁️ 0 مرتبہ پڑھا گیا
بھارت اپنے مظالم اور ریاستی سرپرستی چھپا نہیں سکتا،صائمہ سلیم

بھارت اپنے مظالم اور ریاستی سرپرستی چھپا نہیں سکتا،صائمہ سلیم

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے دوران پاکستانی سفارتکار صائمہ سلیم نے بھارت کے الزامات کا تفصیلی اور بھرپور جواب دیا اور اس موقع پر الزام عائد کیا کہ بھارت ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کو اپنے پالیسی ٹول کے طور پر استعمال کرتا ہے اور مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم کو چھپا نہیں سکتا۔

صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت نے خود کو "دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت” یا "دنیا کی سب سے بڑی جھوٹی فیکٹری” کے نقاب کے پیچھے چھپانے کی کوشش کی، مگر ہر سال یہی پرانے دعوے اس فورم پر سامنے آتے ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ بھارت اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کی مالی و عسکری حمایت کرتا ہے، اور خطے میں خفیہ نیٹ ورکس اور پراکسی گروپس کے ذریعے عدم استحکام پھیلا رہا ہے۔

پاکستانی نمائندے نے یہ بھی کہا کہ بھارت کی طرف سے معاونت یافتہ گروپس، جن میں ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کا ذکر شامل ہے، نے پاکستان میں ہزاروں معصوم شہریوں کی جانیں لیں اور عبادت گاہوں، تعلیمی اداروں اور روزگار کے مراکز کو نشانہ بنایا۔ صائمہ سلیم نے پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف قربانیوں اور اس کے عالمی سطح پر تسلیم شدہ کردار کا اعادہ بھی کیا۔

جنرل اسمبلی میں جواب دیتے ہوئے انہوں نے 6 تا 10 مئی 2025 کے دوران پاکستان پر بھارتی کارروائیوں کا حوالہ دیا اور کہا کہ اس حملے میں بے گناہ شہری شہید ہوئے۔ صائمہ سلیم نے کہا کہ پاکستان نے جنگ کے دوران شہری ڈھانچوں کے تحفظ کے لیے ذمہ دارانہ پالیسی اپنائی تھی، تاہم بھارتی مہم جوئی کو شکست ہوئی تو بہانے تراشے گئے۔ اُن کا کہنا تھا کہ بھارت کی جوہری جنگجوئی اور اشتعال انگیزی اس کے سامراجی عزائم کی عکاس ہے۔

صائمہ سلیم نے سندھ طاس معاہدے کو معطل رکھنے پر بھی بھارت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کر کے بھارت بین الاقوامی قانون کی صریحاً خلاف ورزی کر رہا ہے، جس سے خطے میں امن کو خطرہ لاحق اور کروڑوں افراد بنیادی حقِ آب سے محروم ہو رہے ہیں۔

اُنہوں نے بھارت میں اقلیتوں کے خلاف رویے کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا، گجرات فسادات، دہلی، منی پور اور دیگر واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ریاستی سرپرستی، نفرت انگیز تقاریر اور میڈیا پر تعصب نے مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور دلتوں کو نشانہ بنایا ہے۔ صائمہ سلیم نے کہا کہ اسلاموفوبیا بھارت میں اب قانون، سیاست اور میڈیا میں معمول بن چکا ہے۔

پاکستانی نمائندے نے زور دیا کہ جموں و کشمیر کبھی بھارت کا حصہ نہیں رہا اور اقوامِ متحدہ کی متعلقہ قراردادیں اس علاقے کو متنازعہ قرار دیتی ہیں۔ اُنہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ مقبوضہ علاقے کے لیے آزاد، غیرجانبدار اور شفاف ریفرنڈم کے ذریعے کشمیری عوام کی حقِ خودارادیت کو تسلیم کیا جائے۔

اختتامی طور پر صائمہ سلیم نے کہا کہ پاکستان علاقائی امن، باہمی احترام اور سالم بقائے باہمی کے لیے پرعزم ہے، مگر ملک کی خودمختاری اور شہریوں کے تحفظ پر حملہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اُنہوں نے واضح کیا کہ پاکستان عالمی فورم پر بھارت کی منافقت، قبضہ اور کشمیری عوام کے بنیادی حقوق سے انکار کے خلاف آواز اٹھانا جاری رکھے گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں پر * کا نشان لگا ہوا ہے۔