امریکا کی جانب سے ایران کے جنوبی ساحلی علاقوں پر حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
ایرانی سرکاری ذرائع کے مطابق ایران نے بحرین، کویت اور اردن میں موجود امریکی فوجی تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔
ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب اور ایرانی مسلح افواج نے مختلف امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔
دعویٰ کیا گیا ہے کہ اردن کے پرنس حسن ایئر بیس پر میزائل اور ڈرون حملوں کے ساتھ ایندھن کے ذخائر اور اسلحہ گوداموں کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔
ایرانی حکام کے مطابق بحرین کے شیخ عیسیٰ ایئر بیس پر امریکی ڈرون کمانڈ اینڈ کنٹرول مرکز، پی-8 طیاروں کے ہینگر اور ہیلی کاپٹروں کی مرمت کی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
بحرینی وزارتِ داخلہ نے فضائی حملے کے سائرن بجنے کے بعد شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی۔
🔴 #عاجل_الآن :
وكالة تسنيم للأنباء تذكر أن رسالة ضربات اليوم كانت أن إيران جاهزة لتوسيع نطاق النزاع⭕استهدفت إيران قواعد الولايات المتحدة في قطر والكويت والأردن وعُمان والبحرين pic.twitter.com/bZNDt1blAS
— حنان العتيبي (@Dr_Utaybi) July 13, 2026
ادھر ایران کے مطابق کویت کے علی السالم ایئر بیس پر ایندھن کے ذخائر اور پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ احمد الجابر ایئر بیس پر موجود ریڈار نظام پر بھی حملے کیے گئے۔
پاسدارانِ انقلاب نے بیان میں کہا ہے کہ یہ کارروائیاں ایران کے خلاف امریکی فوجی حملوں کے جواب میں جاری آپریشن کے تیسرے مرحلے کا حصہ ہیں۔
ایرانی حکام نے یہ بھی خبردار کیا کہ اگر آبنائے ہرمز میں امریکی فوجی سرگرمیاں جاری رہیں تو مزید کارروائیاں کی جا سکتی ہیں۔
دوسری جانب اردن کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اپنی فضائی حدود میں داخل ہونے والے ایران کے چار میزائل تباہ کر دیے۔
اسی طرح کویتی فوج کے جنرل اسٹاف کا کہنا ہے کہ فضائی دفاعی نظام نے فضائی حدود میں داخل ہونے والے اہداف کا مقابلہ کیا، جبکہ شہریوں کو حفاظتی ہدایات پر عمل کرنے کی اپیل کی گئی۔
آزاد ذرائع سے ایرانی دعوؤں اور حملوں سے ہونے والے ممکنہ نقصانات کی مکمل تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی، جبکہ متعلقہ ممالک کی جانب سے صورتحال پر مزید بیانات کا انتظار ہے۔