ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوج نے پہلی مرتبہ اس کے اہم ریلوے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا، جس کے بعد شمالی ایران میں ریلوے آمدورفت متاثر ہوئی ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے فارس نیوز کے مطابق صوبہ گلستان میں واقع ایک اہم ریلوے پل پر میزائل حملہ کیا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ پل اس تجارتی ریلوے راہداری کا حصہ ہے جو ایران کو ترکمانستان، قازقستان، چین اور روس سے ملاتی ہے، اس لیے اسے خطے کی اہم لاجسٹک گزرگاہ تصور کیا جاتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق حملے کے بعد تہران اور مشہد کے درمیان ٹرین سروس عارضی طور پر معطل کر دی گئی، جبکہ ایران ریلوے نے متاثرہ مقام کی بحالی کے لیے انجینئرنگ ٹیمیں روانہ کر دی ہیں۔ مسافروں کے لیے متبادل زمینی ٹرانسپورٹ کا بھی انتظام کیا جا رہا ہے۔
فارس نیوز کا کہنا ہے کہ حالیہ مہینوں میں اس ریلوے روٹ کی اہمیت میں اضافہ ہوا، کیونکہ ایران نے اپنی بین الاقوامی تجارت کا بڑا حصہ اسی زمینی راہداری کے ذریعے چین اور روس کی جانب منتقل کرنا شروع کیا تھا۔
ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ حالیہ جنگ کے دوران یہ پہلا موقع ہے جب امریکی کارروائی میں کسی فوجی اڈے یا دفاعی تنصیب کے بجائے شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ایران کی وزارت خارجہ نے اس کارروائی کو شہری تنصیبات پر حملہ قرار دیتے ہوئے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور جنگی جرم قرار دیا ہے۔
ادھر پاسدارانِ انقلاب نے الزام عائد کیا ہے کہ یہ حملے عالمی توجہ دوسری جانب منتقل کرنے کی کوشش کا حصہ ہیں۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران میں مختلف اہداف پر کارروائیوں کی تصدیق کی ہے، تاہم ایرانی دعوے کے مطابق مذکورہ ریلوے پل پر حملے کے حوالے سے کوئی باضابطہ بیان یا تصدیق جاری نہیں کی۔