واشنگٹن: امریکا نے آبنائے ہرمز کے قریب ایران میں کیے گئے فضائی حملوں کی ویڈیو جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ کارروائی کے دوران ایران کے 10 اہم فوجی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی حکام کے مطابق یہ کارروائی اس مبینہ ڈرون حملے کے جواب میں کی گئی جس میں آبنائے ہرمز میں پاناما کے پرچم بردار ایک آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے بتایا ہے کہ فضائی کارروائی میں ایران کے فوجی نگرانی کے نظام، مواصلاتی مراکز، فضائی دفاعی تنصیبات، ڈرون ذخیرہ گاہوں اور بارودی سرنگیں بچھانے کی صلاحیت سے متعلق اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر کی گئی، جس کا مقصد آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی بحری آمدورفت کے تحفظ کو یقینی بنانا اور مستقبل میں ایسے حملوں کی روک تھام تھا۔
امریکی فوج کے مطابق جاری کردہ ویڈیو میں حملوں کے مختلف مناظر اور اہداف کو نشانہ بنائے جانے کے لمحات دکھائے گئے ہیں۔
دوسری جانب ایران کی طرف سے ان امریکی دعووں یا ویڈیو پر فوری طور پر کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے، اور اس خطے میں کسی بھی کشیدگی کے عالمی توانائی منڈیوں اور علاقائی سلامتی پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔