اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ مختلف امور پر مذاکرات کیے گئے اور متعدد مطالبات تسلیم بھی کیے گئے، تاہم مہاجرین کی نشستوں سے متعلق معاملے پر اتفاق رائے پیدا نہیں ہو سکا۔
سینیٹ اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ حکومت نے کمیٹی کے پیش کردہ کئی مطالبات پر مثبت پیش رفت کی۔ ان کے مطابق وزیراعظم نے بھی سماجی فلاح و بہبود سے متعلق مطالبات کو جائز قرار دیتے ہوئے انہیں پورا کرنے کی ہدایت کی تھی۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے دوران مہاجرین کی 12 مخصوص نشستوں کے خاتمے اور ان نشستوں پر منتخب نمائندوں کے اختیارات محدود کرنے کا مطالبہ بھی سامنے آیا، تاہم اس معاملے پر حکومت اور کمیٹی کے درمیان اختلافات برقرار ہیں۔
رانا ثنا اللہ کے مطابق حکومت نے 30 مئی کو آزاد کشمیر انتظامیہ کو مختلف مطالبات کے حوالے سے تفصیلی جواب فراہم کیا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض حلقوں کی جانب سے انتخابات کے انعقاد میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔
مشیرِ سیاسی امور نے مزید کہا کہ بعض مطالبات میں کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق سے متعلق نکات کو حلف نامے سے نکالنے کی تجویز بھی شامل تھی۔ ان کے مطابق کمیٹی کسی سیاسی جماعت سے وابستہ نہیں اور انتخابی عمل میں حصہ لینے کے لیے بھی آمادہ نہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ احتجاج کے دوران بعض عناصر کی جانب سے مسلح کارروائیاں کی گئیں، جبکہ بھارتی ذرائع ابلاغ ان واقعات کو مخصوص انداز میں پیش کر رہے ہیں۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ آزاد کشمیر میں قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں اور حکومت خطے کے امن و استحکام کے لیے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان آزاد کشمیر کے تحفظ اور عوامی مفادات کے دفاع کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔