امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ریڈیو انٹرویو میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران مذاکرات کے لیے پاکستان جا رہا ہے، اور اگر وہ مذاکرات کی میز پر نہ آیا تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ان کے مطابق ایران کے لیے ایسے حالات پیدا ہو سکتے ہیں جو ماضی میں کبھی نہیں دیکھے گئے۔ ٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ مذاکرات کے ذریعے ایک منصفانہ معاہدہ طے پا سکتا ہے اور ایرانی قیادت اپنے ملک کے مفاد میں مثبت فیصلے کرے گی۔
امریکی صدر نے ایک بار پھر مؤقف دہرایا کہ ایران کو کسی صورت ایٹمی ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، کیونکہ ان کے مطابق یہ عالمی سطح پر تباہ کن ثابت ہوگا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ آبنائے ہرمز پر امریکی اثر و رسوخ موجود ہے اور ناکہ بندی کے باعث ایران کو بھاری معاشی نقصان ہو رہا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق ایران روزانہ تقریباً 500 ملین ڈالر کا نقصان برداشت کر رہا ہے۔
اپنے بیان میں انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں ایران کے معاملے پر فوجی کارروائی ناگزیر ہو گئی تھی اور اب امریکا اس تنازع کو مختصر مدت میں ختم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ معاملہ اپنے اختتامی مراحل کے قریب ہے اور اگر معاہدہ طے پا گیا تو عالمی منڈی میں توانائی اور اشیاء کی قیمتیں کم ہو جائیں گی۔
سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں امریکی صدر نے کہا کہ بعض سیاسی عناصر ایران کے حوالے سے امریکا کے مضبوط مؤقف کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم وہ کسی دباؤ میں نہیں ہیں اور اپنی پالیسی پر قائم ہیں۔
ان کے مطابق گزشتہ دہائیوں میں مختلف جنگیں طویل عرصے تک جاری رہیں، لیکن ایران معاملے کو مختصر وقت میں حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔