پاک افغان فوری جنگ بندی پر اتفاق،دوحہ مذاکرات مکمل
دوحہ:اسلامی جمہوریہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہونے والے مذاکرات کے دوران دونوں ممالک نے فوری جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے۔
مذاکرات کی میزبانی ریاستِ قطر نے کی جبکہ جمہوریہ ترکیہ نے ثالثی کا کردار ادا کیا۔ قطر کی وزارتِ خارجہ کے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ مذاکرات میں دونوں فریقین نے نہ صرف فوری جنگ بندی پر رضامندی ظاہر کی بلکہ دوطرفہ امن و استحکام کے لیے ایک مستقل طریقہ کار پر بھی اتفاق کیا۔

اعلامیے کے مطابق، دونوں ممالک نے طے کیا ہے کہ آئندہ دنوں میں فالو اَپ اجلاس منعقد کیا جائے گا تاکہ جنگ بندی کے نفاذ اور اس کے پائیدار تسلسل کو یقینی بنایا جا سکے۔ قطر نے امید ظاہر کی ہے کہ یہ پیش رفت دونوں برادر ممالک کے درمیان سرحدی کشیدگی کے خاتمے اور خطے میں پائیدار امن کی بنیاد رکھے گی۔
ذرائع کے مطابق یہ مذاکرات تقریباً 13 گھنٹے تک جاری رہے۔
پاکستانی وفد کی قیادت وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کی
سرکاری ذرائع کے مطابق پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان دوحہ مذاکرات میں پاکستانی وفد کی قیادت وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف نے کی۔
یہ بھی پڑھیں:۔ افواجِ پاکستان نے قوم کی حمایت کے ساتھ سرحدوں کا دفاع کیا
وفد میں مشیرِ قومی سلامتی اور آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک بھی شریک تھے۔
دفترِ خارجہ کے بیان کے مطابق مذاکرات کا محور افغان سرزمین سے پاکستان کے اندر ہونے والی دہشت گردی کا خاتمہ اور پاک افغان سرحد پر امن و استحکام کی بحالی تھا۔

پاکستان نے اپنے موقف میں واضح کیا کہ وہ کشیدگی نہیں چاہتا، تاہم افغان طالبان کو ٹی ٹی پی اور بی ایل اے سمیت دہشت گرد گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی کرنی ہوگی تاکہ پاکستان کے سکیورٹی خدشات دور ہو سکیں۔
طالبان وفد کی قیادت ملا یعقوب نے کی
افغان وفد کی قیادت طالبان حکومت کے وزیرِ دفاع ملا یعقوب نے کی، جبکہ انٹیلی جنس کے سربراہ مولوی عبدالحق وثیق بھی وفد کا حصہ تھے۔
یہ مذاکرات دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی میں کمی اور دہشت گردی کے واقعات کے خاتمے کے لیے اہم پیش رفت سمجھے جا رہے ہیں۔