ماریا کورینا مچاڈو نے نوبیل امن انعام صدر ٹرمپ اور وینزویلا کے عوام کے نام کر دیا
وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا مچاڈو کو ملک میں آمریت کے خلاف جدوجہد پر 2025 کا نوبیل امن انعام دیا گیا، جسے انہوں نے اپنے عوام اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نام کیا۔
رائٹرز کے مطابق 58 سالہ ماریا مچاڈو، جو ایک صنعتی انجینئر ہیں، کو 2024 میں وینزویلا کی عدالتوں نے صدارتی انتخاب میں حصہ لینے سے روک دیا تھا تاکہ وہ صدر نکولس مادورو کو چیلنج نہ کر سکیں۔ وہ اس وقت خفیہ رہائش اختیار کیے ہوئے ہیں اور طویل عرصے سے حکومت مخالف تحریک کی نمایاں رہنما سمجھی جاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:۔ ٹرمپ کا چینی پر 100 فیصد نیا ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
نوبیل کمیٹی سے گفتگو میں ماریا مچاڈو نے کہا کہ یہ انعام صرف ان کا نہیں بلکہ پورے وینزویلا کے عوام کی جدوجہد کا اعتراف ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا، “میں یہ انعام وینزویلا کے مظلوم عوام اور صدر ٹرمپ کے نام کرتی ہوں، جنہوں نے ہماری تحریک کے لیے فیصلہ کن کردار ادا کیا۔”

ان کا کہنا تھا کہ جمہوریت اور آزادی کی بحالی ہی الفریڈ نوبیل کے مشن کا حقیقی احترام ہوگا۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے ردعمل میں کہا کہ نوبیل کمیٹی نے اس بار “امن سے زیادہ سیاست پر توجہ دی ہے”، تاہم صدر ٹرمپ دنیا بھر میں امن کے فروغ اور جنگوں کے خاتمے کے لیے کوششیں جاری رکھیں گے۔
نوبیل کمیٹی کے اعلامیے میں کہا گیا کہ آمریت کے دباؤ میں آزادی کے لیے کھڑے ہونے والے افراد عالمی سطح پر تحسین کے مستحق ہیں۔ کمیٹی کے سربراہ یورگن واٹنے فریڈنس نے امید ظاہر کی کہ یہ ایوارڈ وینزویلا میں جمہوریت کی پرامن بحالی کے لیے نئی تحریک پیدا کرے گا۔
ماریا مچاڈو پہلی وینزویلین اور چھٹی لاطینی امریکی شخصیت ہیں جنہیں نوبیل امن انعام سے نوازا گیا ہے۔ ابھی یہ واضح نہیں کہ وہ 10 دسمبر کو اوسلو میں ہونے والی تقریب میں شریک ہوں گی یا نہیں۔