ABS24
نیوز
ABS24 News Network
💰 زرمبادلہ
🇺🇸 امریکی ڈالر ₨278.34 🇪🇺 یورو ₨323.15 🇬🇧 پاؤنڈ ₨373.66 🇸🇦 سعودی ریال ₨74.22 🇦🇪 درہم ₨75.79 🇨🇳 چینی یوان ₨41.11

سوشل میڈیا ایکٹویسٹ صنم جاوید گرفتار

👁️ 0 مرتبہ پڑھا گیا
سوشل میڈیا ایکٹویسٹ صنم جاوید گرفتار

پشاور میں پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ایکٹویسٹ صنم جاوید گرفتار، وزیراعلیٰ کی ہدایت پر تحقیقات کا آغاز

پشاور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی معروف سوشل میڈیا ایکٹویسٹ صنم جاوید کو مبینہ طور پر پشاور سے ڈرامائی انداز میں گرفتار کرلیا گیا ہے۔ واقعے نے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے، جب کہ خیبرپختونخوا حکومت نے اس واقعے کی شفاف تحقیقات اور ملزمان کی فوری گرفتاری کی ہدایت جاری کردی ہے۔

ذرائع کے مطابق واقعہ اُس وقت پیش آیا جب صنم جاوید اپنی قریبی ساتھی ایڈووکیٹ حرا بابر کے ہمراہ ایک ہوٹل سے واپس گھر جارہی تھیں۔ راستے میں ان کی گاڑی کو سول آفیسر میس کینٹ کے قریب نامعلوم افراد نے روکا اور انہیں زبردستی گاڑی سے نکال کر ساتھ لے گئے۔ واقعے کے بعد علاقے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی، جب کہ پولیس نے فوری طور پر تھانہ شرقی میں مقدمہ درج کرکے تحقیقات کا آغاز کردیا۔

واقعے کی تفصیل

ایف آئی آر کے مطابق، ایڈووکیٹ حرا بابر نے بیان دیا ہے کہ “میں اور صنم جاوید عشائیے کے بعد ہوٹل سے واپس آرہے تھے کہ اچانک دو گاڑیاں ہمارے سامنے آ کر رک گئیں۔ چند افراد باہر نکلے، انہوں نے صنم جاوید کو زبردستی گاڑی سے باہر نکالا اور اپنی گاڑی میں بٹھا کر لے گئے۔”

یہ بھی پڑھیں:۔ عمر ایوب، شیخ وقاص اکرم اور زرتاج گل کے وارنٹ گرفتاری جاری

حرا بابر نے پولیس کو بتایا کہ واقعے کے وقت موقع پر سیکورٹی اہلکار بھی موجود تھے لیکن کسی نے مداخلت نہیں کی۔ ان کے مطابق اغوا کاروں کی تعداد چار سے پانچ تھی اور وہ مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ آئے تھے۔

پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرکے علاقے کی ناکہ بندی کر دی ہے، جب کہ قریبی عمارتوں اور سڑکوں پر نصب سی سی ٹی وی فوٹیجز حاصل کی جا رہی ہیں تاکہ اغوا کاروں کی شناخت ممکن ہو سکے۔

صنم جاوید کی سرگرمیاں اور پس منظر

صنم جاوید پاکستان تحریک انصاف کی متحرک سوشل میڈیا ایکٹویسٹ کے طور پر جانی جاتی ہیں۔ وہ پارٹی کے مختلف جلسوں اور آن لائن مہمات میں سرگرم کردار ادا کرتی رہی ہیں۔
ان کی سیاسی سرگرمیوں کے باعث وہ ماضی میں بھی متعدد بار گرفتار ہو چکی ہیں۔ گزشتہ برس مئی 9 واقعات کے بعد انہیں کئی ماہ تک مختلف مقدمات میں حراست میں رکھا گیا، تاہم عدالتوں سے ضمانت ملنے کے بعد وہ دوبارہ پارٹی کی سوشل میڈیا ٹیم کا حصہ بن گئیں۔

پارٹی ذرائع کے مطابق صنم جاوید خیبرپختونخوا میں پارٹی کے ڈیجیٹل نیٹ ورک کی تنظیم نو میں بھی حصہ لے رہی تھیں۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔ پی ٹی آئی رہنماؤں، کارکنوں اور صحافیوں نے صنم جاوید کی مبینہ گرفتاری کو "سیاسی انتقام” قرار دیتے ہوئے ان کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا۔
سابق وفاقی وزیر شیخ وقاص اکرم نے پلیٹ فارم ایکس (سابق ٹوئٹر) پر لکھا کہ “صنم جاوید کو پشاور کی ایک مصروف شاہراہ سے زبردستی اٹھایا گیا۔ دو گاڑیوں نے ان کی کار کو روکا اور انہیں زبردستی نکال کر لے گئے۔ یہ واقعہ گواہوں کے سامنے پیش آیا، حکومت کو فوری طور پر ان کی بازیابی یقینی بنانی چاہیے۔”

متعدد صحافیوں نے بھی واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کسی شہری کو بغیر قانونی کارروائی کے حراست میں لینا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا نوٹس

دوسری جانب، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے پولیس کو مکمل اور شفاف تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

وزیراعلیٰ کے ترجمان نے میڈیا کو بتایا کہ “صنم جاوید کے مبینہ اغوا کے واقعے پر وزیراعلیٰ نے شدید تشویش ظاہر کی ہے۔ ان کی ہدایت پر واقعے کی ایف آئی آر درج کی جا چکی ہے، اور ذمہ دار عناصر کے خلاف قانونی کارروائی شروع کردی گئی ہے۔”

ترجمان کے مطابق، ایڈووکیٹ حرا بابر دختر محمد بابر شعیب کی مدعیت میں تھانہ شرقی پشاور میں مقدمہ درج ہوا ہے، جس میں نامعلوم افراد کو ملزم نامزد کیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ “حکومتِ خیبرپختونخوا صوبے میں انصاف، قانون اور شہریوں کی عزتِ نفس کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے، محض نعروں پر یقین نہیں رکھتی۔ جو بھی اس غیرقانونی عمل میں ملوث پایا گیا، اسے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی۔”

پولیس کی کارروائیاں اور پیش رفت

پولیس ذرائع کے مطابق، سی سی ٹی وی فوٹیجز اور عینی شاہدین کے بیانات کی مدد سے تحقیقات جاری ہیں۔ بعض مقامات پر شک کی بنیاد پر چھاپے بھی مارے گئے ہیں، تاہم تاحال صنم جاوید کی بازیابی عمل میں نہیں آئی۔

ترجمان پشاور پولیس نے میڈیا کو بتایا کہ “ہم واقعے کے ہر پہلو کی جانچ کر رہے ہیں۔ اغوا کاروں کی شناخت کے لیے ٹیکنیکل ذرائع استعمال کیے جا رہے ہیں اور کچھ اہم شواہد حاصل ہو چکے ہیں۔”

سیاسی تجزیہ کاروں کی رائے

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صنم جاوید کی گرفتاری یا مبینہ اغوا سیاسی درجہ حرارت میں مزید اضافہ کر سکتا ہے۔
ان کے مطابق پی ٹی آئی کی قیادت پہلے ہی مختلف مقدمات اور گرفتاریوں کا سامنا کر رہی ہے، ایسے واقعات سے سیاسی ماحول مزید کشیدہ ہونے کا امکان ہے۔

کچھ مبصرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ واقعہ سیاسی سرگرمیوں کو محدود کرنے کی ایک کڑی بھی ہو سکتا ہے، تاہم اس حوالے سے سرکاری سطح پر کوئی موقف سامنے نہیں آیا۔

پی ٹی آئی قیادت کا مؤقف

پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں نے صنم جاوید کی گرفتاری کی شدید مذمت کی ہے۔ پارٹی ترجمان نے کہا کہ “ہم صنم جاوید کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اگر حکومت قانون کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے تو ایسے اقدامات ناقابلِ قبول ہیں۔”

ترجمان نے مزید کہا کہ “صنم جاوید پارٹی کی وفادار کارکن ہیں، اُن کی جدوجہد ہمیشہ پرامن رہی ہے، انہیں صرف اپنے سیاسی خیالات کی وجہ سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔”


نتیجہ

صنم جاوید کی گرفتاری یا مبینہ اغوا کا یہ واقعہ خیبرپختونخوا میں سیاسی و انتظامی سطح پر ایک نیا تنازعہ بن گیا ہے۔
حکومتِ خیبرپختونخوا نے واقعے کی مکمل تحقیقات کا اعلان کیا ہے، تاہم عوامی حلقے اور پی ٹی آئی قیادت اب صنم جاوید کی جلد بازیابی اور شفاف انکوائری رپورٹ کا انتظار کر رہے ہیں۔

اگر یہ واقعہ واقعی ایک اغوا ہے، تو یہ سوال ابھر رہا ہے کہ ملک کے اہم شہروں میں خواتین سیاستدانوں اور کارکنوں کی سیکیورٹی کہاں تک مؤثر ہے؟
اور اگر یہ گرفتاری ہے تو اس کے قانونی جواز اور پروسیجر پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، آنے والے دنوں میں یہ معاملہ قومی سیاست میں نیا رخ اختیار کر سکتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں پر * کا نشان لگا ہوا ہے۔