مواد پر جائیں
تازہ ترین
تازہ ترین

پاک افغان کشیدگی ختم کرانے کے لیے روس ثالثی کو تیار

تحریر: muhammadaamiraa49@gmail.com پڑھنے کا وقت: 2 منٹ 4
پاک افغان کشیدگی ختم کرانے کے لیے روس ثالثی کو تیار
پاک افغان کشیدگی ختم کرانے کے لیے روس ثالثی کو تیار

پاک افغان کشیدگی ختم کرانے کے لیے روس ثالثی کو تیار-روس نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری کشیدگی کم کرنے اور دونوں ممالک کے اختلافات کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کی پیشکش کر دی ہے۔

پاکستان میں روس کے سفیر البرٹ خوریف نے انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد میں پاک روس تعلقات کے موضوع پر منعقدہ گول میز مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ماسکو پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش رکھتا ہے اور اس معاملے کے حل میں تعاون کے لیے تیار ہے۔

روسی سفیر نے کہا کہ پاک افغان سرحد کی مسلسل بندش کے باعث پاکستان کی وسطی ایشیائی ممالک اور روس کے ساتھ تجارتی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ سرحدی گزرگاہیں دوبارہ کھلیں گی اور اسلام آباد و کابل کے درمیان کشیدگی میں کمی آئے گی۔

البرٹ خوریف کے مطابق گزشتہ ہفتے روسی وزیر داخلہ ولادیمیر کولوکولٹسیف کے دورۂ اسلام آباد کے دوران بھی پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کا معاملہ زیر بحث آیا تھا۔

واضح رہے کہ روس نے گزشتہ سال افغانستان میں طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا تھا۔ رواں سال مئی میں دونوں ممالک کے درمیان فوجی اور تکنیکی تعاون کے معاہدے پر بھی دستخط ہوئے، تاہم اس معاہدے کی مکمل تفصیلات عام نہیں کی گئیں۔

طالبان کے حوالے سے روس اور پاکستان کے مؤقف میں بعض معاملات پر فرق بھی پایا جاتا ہے، لیکن اسلام آباد نے پاک افغان کشیدگی کے حل کے لیے ماسکو کے ممکنہ کردار کے حوالے سے رابطے برقرار رکھے ہیں۔

دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے اپنی ہفتہ وار بریفنگ میں کہا تھا کہ پاکستان افغانستان اور علاقائی سلامتی سے متعلق معاملات پر روس کے ساتھ تعلقات کو اہمیت دیتا ہے۔

دوسری جانب روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی نے بھی مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے دونوں ممالک کے دوطرفہ تعلقات کے مختلف پہلوؤں اور تعاون کی راہ میں حائل عملی رکاوٹوں کو دور کرنے کی کوششوں پر روشنی ڈالی۔

شیئر کریں:واٹس ایپایکسٹیلیگرام

اپنی رائے لکھیں