مواد پر جائیں
تازہ ترین
تازہ ترین

برازیل کے بائیں بازو کے صدر لولا چوتھی بار منتخب

تحریر: muhammadaamiraa49@gmail.com پڑھنے کا وقت: 3 منٹ 1
برازیل کے بائیں بازو کے صدر لولا چوتھی بار منتخب
برازیل میں نئی تاریخ رقم، ایل دا سلوا چوتھی بار صدر منتخب ہو گئے

برازیل کے بائیں بازو کے صدر لولا چوتھی بار منتخب-لولا دا سلوا نے 51.75 فیصد ووٹ حاصل کیے، جبکہ ان کے حریف فلاویو بولسونارو کو 48.25 فیصد ووٹ ملے

برازیل کے بائیں بازو کے رہنما لوئیز اناسیو لولا دا سلوا نے صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں کامیابی حاصل کرلی۔ انہوں نے دائیں بازو کے امیدوار فلاویو بولسونارو کو شکست دے کر چوتھی مرتبہ برازیل کی صدارت حاصل کی۔

انتخابی نتائج کے مطابق لولا دا سلوا نے 51.75 فیصد ووٹ حاصل کیے، جبکہ ان کے حریف فلاویو بولسونارو کو 48.25 فیصد ووٹ ملے۔ اس کامیابی کے ساتھ لولا کے طویل سیاسی سفر میں ایک اور اہم باب کا اضافہ ہوگیا۔

لولا نے ساؤ پالو میں اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ کامیابی حقائق کے انکار اور جھوٹ کے خلاف فتح ہے۔ انہوں نے اپنے ووٹرز، بالخصوص نوجوانوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے انتخابی مہم کے دوران جمہوریت کے دفاع میں حصہ لیا۔

انتخابات کے روز ووٹنگ کے عمل میں مشکلات بھی سامنے آئیں۔ رپورٹ کے مطابق بعض علاقوں میں پبلک ٹرانسپورٹ کی محدود سہولتوں اور خراب موسم کے باعث ووٹرز کو پولنگ اسٹیشنز تک پہنچنے میں دشواری ہوئی۔ ان حالات کے پیش نظر سپریم کورٹ نے ووٹنگ کے وقت میں دو گھنٹے کی توسیع کرتے ہوئے پولنگ شام 7 بجے تک جاری رکھنے کا حکم دیا۔

دوسری جانب فلاویو بولسونارو نے انتخابی نتائج پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے انہیں ناقابلِ فہم قرار دیا اور نتائج کو چیلنج کرنے کا عندیہ دیا۔

لولا دا سلوا نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز مزدور یونین کی قیادت سے کیا۔ 1980 کی دہائی میں مزدور تحریکوں کے دوران انہیں قومی سطح پر شہرت ملی، جس کے بعد انہوں نے ورکرز پارٹی کے پلیٹ فارم سے سیاست میں حصہ لیا۔ وہ 2003 سے 2010 تک مسلسل دو مرتبہ برازیل کے صدر رہے اور بعد ازاں 2023 میں تیسری بار اس منصب پر فائز ہوئے۔

ان کے ابتدائی صدارتی ادوار میں برازیل کی معیشت نے ترقی کی اور سماجی بہبود کے اقدامات کے نتیجے میں لاکھوں افراد غربت سے باہر نکلے۔ تاہم، بعد کے برسوں میں بدعنوانی کے مقدمات اور سیاسی تنازعات نے ان کے سیاسی سفر کو متاثر کیا۔ ان کے خلاف بعض سزائیں بعد میں قانونی بنیادوں پر کالعدم قرار دے دی گئی تھیں۔

خارجہ پالیسی کے میدان میں لولا نے برکس کے ذریعے ترقی پذیر ممالک کے درمیان تعاون اور عالمی سطح پر برازیل کے کردار کو مضبوط بنانے پر توجہ دی۔ انہوں نے امریکا، چین اور روس سمیت بڑی عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنے کی پالیسی اختیار کی۔

انتخابی مہم کے دوران معاشی ترقی، جرائم، عوامی تحفظ اور سماجی بہبود اہم موضوعات رہے۔ لولا نے عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر زور دیا، جبکہ مخالف امیدوار نے امن و امان اور حکومتی کارکردگی سے متعلق معاملات کو اجاگر کیا۔

لولا دا سلوا کی کامیابی کے بعد برازیل کو ایک گہری سیاسی تقسیم کا سامنا ہے، جہاں مختلف نظریات رکھنے والے ووٹرز کے درمیان اختلافات انتخابی مہم کا نمایاں حصہ رہے۔ نئی حکومت کے لیے معاشی ترقی، عوامی تحفظ اور سیاسی ہم آہنگی اہم چیلنجز ہوں گے۔

شیئر کریں:واٹس ایپایکسٹیلیگرام

اپنی رائے لکھیں