برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں شہزادہ ہیری اور دیگر چھ معروف شخصیات کو ایک اہم پرائیویسی مقدمے میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ لندن ہائی کورٹ نے ڈیلی میل اور میل آن سنڈے کے پبلشر ایسوسی ایٹڈ نیوز پیپرز لمیٹڈ کے خلاف دائر مقدمے میں درخواست گزاروں کے حق میں فیصلہ نہیں دیا۔
درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ 1990 سے 2018 کے دوران میڈیا ادارے نے ان کی ذاتی معلومات غیرقانونی ذرائع سے حاصل کیں۔ ان کے مطابق مبینہ طور پر فون اور وائس میل تک غیرقانونی رسائی، خفیہ نگرانی، اور طبی و مالی ریکارڈ تک پہنچنے کی کوششیں کی گئیں۔
اس مقدمے میں شہزادہ ہیری کے ساتھ معروف گلوکار سر ایلٹن جان، ڈیوڈ فرنش، سر سائمن ہیوز، الزبتھ ہرلی، سیڈی فراسٹ اور بیرونس ڈورین لارنس بھی شامل تھے۔
دوسری جانب میڈیا گروپ نے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ اس نے معلومات کے حصول کے لیے کسی غیرقانونی طریقہ کار کا استعمال نہیں کیا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل شہزادہ ہیری ایک الگ مقدمے میں مرر گروپ کے خلاف کامیاب رہے تھے، جہاں عدالت نے غیرقانونی طور پر معلومات حاصل کرکے خبریں شائع کرنے سے متعلق متعدد دعوؤں میں ان کے حق میں فیصلہ دیا تھا۔ اسی طرح گزشتہ برس ایک اور برطانوی اخبار کے پبلشر نے بھی شہزادہ ہیری سے معذرت کرتے ہوئے ہرجانہ ادا کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔
شہزادہ ہیری ماضی میں متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ ٹیبلائیڈ میڈیا کی جانب سے مسلسل مداخلت نے ان کی نجی زندگی، خاندانی معاملات اور ذہنی صحت پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ ان کے مطابق یہ مقدمہ میڈیا کی آزادی اور شہریوں کے حقِ رازداری کے درمیان توازن سے متعلق ایک اہم قانونی آزمائش تھا۔