لندن: برطانیہ میں راچڈیل گرومنگ گینگ کے مرکزی ملزم کی رہائی کے بعد اسے ملک بدر کرنے کے مطالبات میں شدت آ گئی ہے، جبکہ حکومت پر اس حوالے سے سیاسی دباؤ بھی بڑھنے لگا ہے۔برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق، راچڈیل گرومنگ گینگ کے 73 سالہ مرکزی ملزم شبیر احمد نے نابالغ لڑکیوں کے جنسی استحصال کے مقدمات میں سزا کے تحت تقریباً 14 سال قید کاٹی، جس کے بعد حال ہی میں اسے رہا کیا گیا۔رپورٹس کے مطابق، توقع کی جا رہی ہے کہ گریٹر مانچسٹر کے میئر اینڈی برنہم اس معاملے پر حکومت سے سخت مؤقف اختیار کریں گے اور سینئر حکام پر زور دیں گے کہ ملزم کی ملک بدری کے لیے دستیاب تمام قانونی راستوں پر غور کیا جائے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ متاثرہ افراد کو آگاہ کیا گیا ہے کہ موجودہ قانونی صورتحال کے باعث ملزم کو فوری طور پر ڈی پورٹ کرنا ممکن نہیں۔ عدالتی فیصلے کے بعد اس کی برطانوی شہریت ختم کی جا چکی ہے، جبکہ اس کے پاس سزا سے قبل دہری شہریت موجود تھی۔رہائی کے بعد ملزم نے اپنی ذاتی حفاظت سے متعلق خدشات کا بھی اظہار کیا ہے۔اینڈی برنہم اس سے قبل بھی گرومنگ گینگ میں ملوث افراد کو برطانیہ سے بے دخل کرنے کی حمایت کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو اس معاملے میں تمام ممکنہ قانونی آپشنز کا جائزہ لینا چاہیے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 2022 میں بھی، بطور گریٹر مانچسٹر میئر، انہوں نے اُس وقت کی حکومت سے ایسے مجرموں کی ملک بدری کا مطالبہ کیا تھا۔
راچڈیل گرومنگ گینگ کے مرکزی ملزم کی ملک بدری کا مطالبہ