ہزاروں سال قبل طاعون کی وبا کیسے پھیلی؟-سائنسدانوں نے ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ طاعون جیسی مہلک وبا کی ابتدائی شکل ہزاروں سال قبل یوریشیائی خطے میں موجود تھی اور ممکنہ طور پر جانوروں کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہوئی۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ماہرین نے قدیم انسانی باقیات کے ڈی این اے کے تجزیے سے یہ بات سامنے لائی ہے کہ طاعون کا سبب بننے والا بیکٹیریا یرسینیا پیسٹس (Yersinia pestis) تقریباً 5 ہزار 500 سال قبل بھی موجود تھا۔
تحقیق کے مطابق جھیل بائیکال کے قریب واقع قدیم قبرستانوں سے ملنے والے انسانی ڈھانچوں میں اس بیکٹیریا کے شواہد پائے گئے، جہاں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس دور میں یہ بیماری بڑے پیمانے پر پھیلی ہوئی تھی۔ حیران کن طور پر متاثرین میں زیادہ تعداد بچوں اور نوعمر افراد کی تھی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ابتدائی انسانی معاشروں میں رہنے والے شکاری قبائل مارموٹ جیسے جانوروں کے قریب رہتے اور انہیں خوراک کے طور پر استعمال کرتے تھے، جس کے باعث یہ بیماری جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوئی۔
تحقیق میں مزید بتایا گیا ہے کہ یہ نظریہ کہ طاعون صرف گنجان آباد زرعی معاشروں میں ہی پھیل سکتی ہے، اس دریافت کے بعد کمزور پڑ گیا ہے، کیونکہ اس کے شواہد دور دراز اور کم آبادی والے خطوں میں بھی ملے ہیں۔
سائنسدانوں کے مطابق یہ دریافت طاعون کی تاریخ، اس کے پھیلاؤ اور انسانی تہذیب پر اس کے اثرات کے بارے میں موجود سائنسی فہم میں اہم تبدیلی کا باعث بن سکتی ہے۔