آبنائے ہرمز میں کمرشل جہازوں کی آمدورفت دوبارہ شروع-امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمت نامے پر دستخط کے بعد اسٹریٹ آف ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدورفت دوبارہ بحال ہو گئی ہے۔
بین الاقوامی ذرائع کے مطابق معاہدے کے تحت خلیج فارس کی اس اہم آبی گزرگاہ کو ابتدائی طور پر 60 روز کے لیے ٹول فری قرار دیا گیا ہے، جس کے بعد تجارتی جہازوں کی بلا رکاوٹ آمدورفت ممکن ہو گئی ہے۔ یہ پیش رفت سیز فائر فریم ورک کا حصہ قرار دی جا رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق اسٹریٹ آف ہرمز دنیا کی تیل تجارت کا تقریباً 20 سے 25 فیصد حصہ سنبھالتا ہے، جہاں روزانہ 1 کروڑ 40 لاکھ سے 2 کروڑ 10 لاکھ بیرل خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ کشیدگی کے دوران اس راستے کی بندش سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ معاہدے کے بعد بحری ٹریفک بتدریج بحال ہو رہی ہے اور کچھ تجارتی جہاز پہلے ہی اس راستے سے گزرنا شروع ہو چکے ہیں، تاہم مکمل معمول کی صورتحال میں چند ہفتے لگ سکتے ہیں کیونکہ شپنگ اور انشورنس کمپنیوں کی جانب سے حتمی یقین دہانی کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس پیش رفت سے عالمی توانائی منڈی میں استحکام آنے اور تیل کی قیمتوں میں مزید کمی کا امکان ہے۔