واشنگٹن میں امریکی کانگریس کی کینن ہاؤس آفس بلڈنگ کے روٹنڈا میں سابق امریکی فوجیوں اور ان کے اہل خانہ نے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کے خاتمے کے لیے احتجاج کیا۔ یہ مظاہرہ مختلف سابق فوجی تنظیموں کی جانب سے منظم کیا گیا تھا، جن میں “About Face” بھی شامل ہے۔
مظاہرین نے ہاتھوں میں سرخ ٹیولپس اٹھا رکھے تھے جو ان کے مطابق ان ایرانی شہریوں کی یاد اور احترام کی علامت ہیں جو امریکی حملوں میں ہلاک ہوئے۔ اس کے ساتھ انہوں نے “ایران پر جنگ ختم کرو” کے بینرز بھی اٹھا رکھے تھے۔
احتجاج کے دوران سابق فوجیوں نے ان 13 امریکی اہلکاروں کی یاد میں ایک خصوصی تقریب بھی منعقد کی جو جاری تنازع کے دوران ہلاک ہو چکے ہیں۔ مظاہرین نے کانگریس سے مطالبہ کیا کہ جنگی کارروائیوں کے لیے فنڈنگ بند کی جائے اور فوجی مداخلت ختم کی جائے۔
کیپٹل پولیس نے مظاہرین کو منتشر ہونے کا حکم دیا، تاہم انکار پر تقریباً 62 سے 66 افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔ گرفتار ہونے والوں میں بزرگ اور معذور سابق فوجی بھی شامل تھے، جنہیں موقع پر ہی زپ ٹائیز کے ذریعے باندھ کر عمارت سے باہر منتقل کیا گیا۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ کانگریس کے اسپیکر سے ملاقات کر کے جنگ کے خاتمے کی اپیل کرنا چاہتے تھے اور علامتی طور پر تہہ کیا ہوا امریکی جھنڈا پیش کرنا چاہتے تھے۔
یہ احتجاج ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ کی ایران پالیسی پر اندرونی سطح پر اختلافات بڑھ رہے ہیں اور سابق فوجی اسے عراق جنگ کی طرح ایک “غلط فیصلہ” قرار دے رہے ہیں۔