اسلام آباد: وفاقی حکومت نے مالی سال 2026-27 کے لیے 18 ہزار 771 ارب روپے کا بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کر دیا، جس میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ کم از کم اجرت میں بھی 10 فیصد اضافے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بجٹ تقریر میں کہا کہ حکومت معاشی استحکام، ترقیاتی منصوبوں، دفاعی ضروریات اور سماجی تحفظ کے پروگراموں کو ترجیح دے رہی ہے۔ آئندہ مالی سال کے لیے اقتصادی شرح نمو 4 فیصد اور افراط زر کی اوسط شرح 8.2 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ میں دفاع کے لیے 3 ہزار ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے لیے ایک ہزار ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ اسی طرح بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لیے 838 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے جو گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔
حکومت نے تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے کے لیے مختلف آمدنی سلیبز میں ٹیکس شرح کم کرنے اور 9 فیصد سرچارج ختم کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ جائیداد کی خرید و فروخت پر ود ہولڈنگ ٹیکس میں کمی جبکہ آئی ٹی برآمدات کے لیے مراعات برقرار رکھنے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔
بجٹ میں توانائی، انفراسٹرکچر، آبی منصوبوں، ہاؤسنگ، تعلیم اور صحت کے شعبوں کے لیے بھی اربوں روپے مختص کیے گئے ہیں۔ دیامر بھاشا ڈیم، مہمند ڈیم، داسو ہائیڈرو پاور منصوبہ، سکھر حیدر آباد موٹروے اور کراچی تا چمن شاہراہ سمیت کئی اہم منصوبوں کو ترقیاتی پروگرام میں شامل کیا گیا ہے۔
فنانس بل کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے حاصل ہونے والی آمدن پر 5 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس عائد کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے جبکہ الیکٹرک گاڑیوں، موٹر سائیکلوں اور رکشوں کے لیے مختلف سہولتیں برقرار رکھی گئی ہیں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ بجٹ کا مقصد معاشی ترقی، برآمدات میں اضافہ، روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور کم آمدنی والے طبقات کو مزید سہولت فراہم کرنا ہے۔