نیتن یاہو کی ایران پر حملے کے لیے ٹرمپ کو قائل کرنے کی کوشش، سی این این کا دعویٰ-اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے مبینہ طور پر انتخابات سے قبل ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائی کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی، تاہم ٹرمپ نے فوری حملے کی منظوری نہیں دی۔ یہ دعویٰ امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے اپنی رپورٹ میں امریکی اور اسرائیلی ذرائع کے حوالے سے کیا ہے۔
سی این این کے مطابق اسرائیل گزشتہ ہفتے سے امریکا پر زور دے رہا تھا کہ وہ ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی میں اس کا ساتھ دے اور ضرورت پڑنے پر مشترکہ حملوں میں حصہ لے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ٹرمپ اور امریکی حکام نے اسرائیل کو فی الحال انتظار کرنے کا مشورہ دیا، تاہم مستقبل قریب میں ایران کے خلاف مشترکہ کارروائی کے امکان کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا گیا۔
سی این این کے مطابق امریکی فوج نے ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر حملوں کی منصوبہ بندی کر رکھی ہے اور صدارتی منظوری ملنے کی صورت میں 96 گھنٹوں کے اندر کارروائی شروع کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ رپورٹ میں ممکنہ اہداف میں ایرانی فوجی تنصیبات، جوہری مراکز اور اہم بنیادی ڈھانچے کا ذکر کیا گیا ہے۔ تاہم، یہ منصوبہ بندی سے متعلق دعویٰ ہے اور حملے کا کوئی حتمی اعلان سامنے نہیں آیا۔
رپورٹ میں یہ امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ نیتن یاہو انتخابات سے قبل ایران کے خلاف کارروائی کے ذریعے سیاسی حمایت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم، اس دعوے کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے انتخابات سے پہلے ایران پر حملے کی تیاریوں اور فوجی قیادت میں اختلافات سے متعلق خبروں کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس کی توجہ انتخابات کے دوران سیکیورٹی انتظامات پر مرکوز ہے اور اس سے متعلق دیگر قیاس آرائیاں گمراہ کن ہیں۔
اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے بھی سی این این کی رپورٹ مسترد کردی ہے، جبکہ امریکی حکومت کی جانب سے رپورٹ پر ردعمل سامنے آنے کی اطلاع نہیں دی گئی۔
ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے ممکنہ اثرات خطے کی سلامتی اور عالمی توانائی کی تجارت کے لیے اہم سمجھے جاتے ہیں، خصوصاً آبنائے ہرمز کے تناظر میں۔ تاہم، ایران کے خلاف کسی نئی امریکی یا مشترکہ فوجی کارروائی کے بارے میں حتمی صورت حال سرکاری اعلانات سے ہی واضح ہوسکے گی۔





