امریکی فوج نے ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائیوں کا آغاز کرنے کا اعلان کیا ہے۔ امریکی سینٹرل کمان (سینٹکام) کے مطابق یہ حملے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر مبینہ حملوں کے بعد کیے گئے، جنہیں واشنگٹن نے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
امریکی فوج کے بیان میں کہا گیا ہے کہ کارروائی کے دوران ایران کے فضائی دفاعی نظام، میزائل تنصیبات، ساحلی نگرانی کے مراکز، زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں، بحری اہداف کو نشانہ بنانے والے کروز میزائل نظام اور ڈرون لانچ سائٹس کو ہدف بنایا گیا۔
سینٹکام کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد خطے میں امریکی اور بین الاقوامی بحری مفادات کے خلاف ممکنہ خطرات کو محدود کرنا تھا۔ تاہم ایران نے امریکی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے حملوں پر سخت ردعمل کا عندیہ دیا ہے۔
ادھر اسرائیلی فضائیہ نے بھی جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں میں فضائی حملے کیے ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں فوری طور پر کسی جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی۔
دونوں محاذوں پر جاری فوجی سرگرمیوں کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے، جبکہ مختلف ممالک صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ دونوں فریقین کے بعض دعوؤں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔