ABS24
نیوز
ABS24 News Network
💰 زرمبادلہ
🇺🇸 امریکی ڈالر ₨278.34 🇪🇺 یورو ₨323.15 🇬🇧 پاؤنڈ ₨373.66 🇸🇦 سعودی ریال ₨74.22 🇦🇪 درہم ₨75.79 🇨🇳 چینی یوان ₨41.11

پاکستان کا پہلگام حملے سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہو سکا،اقوام متحدہ

👁️ 0 مرتبہ پڑھا گیا
پاکستان کا پہلگام حملے سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہو سکا،اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کی ایک خصوصی رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان کا پہلگام حملے سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہو سکا، جبکہ بھارت کی جانب سے کیا گیا آپریشن سندور عالمی قوانین اور اقوام متحدہ چارٹر کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اقوام متحدہ نے اس معاملے پر بھارت سے باضابطہ جواب طلب کر لیا ہے۔

نیو یارک میں جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے خصوصی ماہرین نے بھارت کے یکطرفہ اقدامات پر سخت اعتراض کیا ہے۔ رپورٹ میں پہلگام حملے کی مذمت کرتے ہوئے ذمہ دار عناصر کو قانون کے مطابق سزا دینے پر زور دیا گیا ہے، تاہم یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ بھارت پاکستان کے خلاف الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے پہلگام حملے میں ملوث ہونے کی تردید کی اور غیر جانبدار، شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ اس کے برعکس 7 مئی 2025 کو بھارت نے آپریشن سندور کے تحت پاکستان کی حدود میں طاقت کا استعمال کیا، جو اقوام متحدہ چارٹر کی خلاف ورزی ہے۔

اقوام متحدہ کے ماہرین کے مطابق بھارت نے آرٹیکل 51 کے تحت سلامتی کونسل کو بروقت اور باضابطہ اطلاع بھی نہیں دی، جو طے شدہ طریقہ کار کے منافی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی حملوں کے دوران شہری علاقوں کو نشانہ بنایا گیا، مساجد متاثر ہوئیں اور متعدد شہری ہلاک و زخمی ہوئے۔

خصوصی ماہرین نے نشاندہی کی کہ پاکستان نے 7 مئی کو بھارتی کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے سلامتی کونسل کو آگاہ کیا کہ اسے اقوام متحدہ چارٹر کے تحت اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ بھارت یہ ثابت کرنے کیلئے کوئی قابلِ اعتبار شواہد پیش نہیں کر سکا کہ پہلگام حملے میں پاکستان کی ریاستی سطح پر کوئی شمولیت تھی۔

اقوام متحدہ کے ماہرین نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے نام پر یکطرفہ فوجی طاقت استعمال کرنے کا کوئی علیحدہ یا خودساختہ حق تسلیم شدہ نہیں۔ اگر طاقت کا استعمال غیر قانونی ہو تو یہ حقِ زندگی کی سنگین خلاف ورزی بن سکتا ہے اور خطے میں بڑے تصادم کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر بھارتی اقدام کو مسلح حملہ تصور کیا جائے تو پاکستان کو اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے، جبکہ بھارت کے اقدامات پاکستان کی خودمختاری اور عدم مداخلت کے اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔

اقوام متحدہ کے خصوصی ماہرین نے یہ بھی نشاندہی کی کہ بھارت نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق ثالثی کارروائیوں میں شرکت سے گریز کیا اور معاہدے کے دائرۂ اختیار کو چیلنج کیا۔ رپورٹ میں بھارت سے وضاحت، ممکنہ تلافی اور معذرت، معاہدے پر نیک نیتی سے عمل اور انسانی نقصان روکنے کیلئے عملی اقدامات پر باضابطہ جواب طلب کیا گیا ہے۔

مزید کہا گیا ہے کہ بھارت سندھ طاس معاہدے پر نیک نیتی سے عمل کرے، پاکستان کے آبی اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی سے باز رہے اور پانی میں رکاوٹ کے باعث پیدا ہونے والے انسانی نقصانات کو روکنے کیلئے واضح اقدامات کرے۔

اقوام متحدہ کے خصوصی ماہرین نے بھارتی حکومت کو ایک سوالنامہ ارسال کیا جس میں پوچھا گیا کہ کیا بھارت کے پاس پاکستان کے خلاف الزامات کے ثبوت موجود ہیں، کیا غیر قانونی طاقت کے استعمال سے ہونے والے جانی نقصان کا ازالہ اور معافی دی جائے گی، اور کیا بھارت سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گا۔

سوالنامے میں یہ بھی پوچھا گیا ہے کہ بھارت معاہدے کے تنازعات کے حل سے متعلق شقوں پر عمل کرنے، جموں و کشمیر کے تنازع کے پرامن حل اور کشمیریوں کو حقِ خود ارادیت دینے کیلئے کیا اقدامات کرے گا۔

خصوصی ماہرین نے ہدایت کی ہے کہ بھارت ان تمام سوالات کے جواب 60 دن کے اندر فراہم کرے۔ بھارت کے جوابات اقوام متحدہ کی ویب سائٹ پر شائع کیے جائیں گے اور ہیومن رائٹس کونسل کے اجلاس میں اس رپورٹ کے ساتھ پیش کیے جائیں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں پر * کا نشان لگا ہوا ہے۔