امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق یہ اقدامات ایک تجارتی بحری جہاز پر مبینہ ایرانی حملے کے بعد کیے جا رہے ہیں۔
سینٹکام کا دعویٰ ہے کہ قبرص کے پرچم بردار ایک کنٹینر جہاز کو پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں جہاز کو نقصان پہنچا، اس میں آگ لگ گئی اور عملے کا ایک رکن لاپتا ہو گیا۔امریکی فوجی حکام کے مطابق حملے کے باعث جہاز کے انجن روم کو شدید نقصان پہنچا،
جس کی وجہ سے وہ اپنا سفر جاری رکھنے کے قابل نہیں رہا۔امریکی کمانڈ نے الزام عائد کیا ہے کہ ایران کو اس سے قبل بھی تجارتی بحری جہازوں پر حملوں کے بعد اپنا طرزِ عمل تبدیل کرنے اور طے شدہ مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کے متعدد مواقع دیے گئے، تاہم ان کے مطابق تہران نے ایسا نہیں کیا۔
سوشل میڈیا پر جاری سینٹکام کے بیان میں کہا گیا ہے کہ موجودہ فوجی کارروائیاں امریکی صدر کی ہدایت پر کی جا رہی ہیں۔دوسری جانب امریکی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی افواج نے آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی اہداف کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے،
تاہم حملوں کے مقامات، نوعیت اور ممکنہ نقصانات کے بارے میں تاحال کوئی سرکاری تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
اسی دوران ایران کے مختلف علاقوں سے دھماکوں کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔
ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق جنوبی شہر چابہار کے قریب دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں،
جبکہ خبر رساں ادارے مہر نے جزیرہ قشم، بوشہر اور عسلویہ میں بھی دھماکوں کی اطلاع دی ہے۔
تاہم ایرانی حکام نے اب تک ان واقعات کے حوالے سے کسی ممکنہ نقصان یا ہلاکتوں کی تصدیق نہیں کی، اور مزید تفصیلات سامنے آنے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔