شام کے دارالحکومت دمشق میں ایک کیفے میں ہونے والے بم دھماکے نے شہر کو ہلا کر رکھ دیا۔ سرکاری حکام کے مطابق مرکزی علاقے حجاز میں دیسی ساختہ بم پھٹنے سے کم از کم پانچ افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔
وزارتِ صحت کے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا، جہاں کئی افراد کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے، جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ انتہائی زور دار تھا، جس سے کیفے کے ساتھ ساتھ آس پاس کی کئی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا اور علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
واقعے کے فوراً بعد ایمبولینسوں، سول ڈیفنس اور امدادی ٹیموں نے امدادی کارروائیاں شروع کر دیں، جبکہ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوع کو گھیرے میں لے کر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ فی الحال دھماکے کی وجہ یا ذمہ دار عناصر کے بارے میں کوئی حتمی اعلان نہیں کیا گیا، جبکہ کسی تنظیم یا فرد نے بھی واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
دوسری جانب سکیورٹی اداروں نے انصاف کے محل اور نصر اسٹریٹ کے اطراف حفاظتی انتظامات مزید سخت کر دیے ہیں، جبکہ شواہد اکٹھے کرکے دھماکے کی نوعیت اور اس کے پس منظر کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔