ایران کے معروف سفارتکار، سابق وزیر خارجہ اور اعلیٰ قیادت کے مشیر ڈاکٹر کمال خرازی کے انتقال کی خبر سامنے آئی ہے، جس کی تصدیق ایرانی ذرائع نے کی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ڈاکٹر کمال خرازی تہران میں اپنے گھر پر ہونے والے ایک حملے میں شدید زخمی ہو گئے تھے، جس میں ان کی اہلیہ بھی جان کی بازی ہار گئیں۔ انہیں نازک حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ کچھ عرصہ زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئے۔
ڈاکٹر کمال خرازی ایران کی خارجہ پالیسی کے اہم معماروں میں شمار ہوتے تھے۔ وہ موجودہ قیادت کے مشیر کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے اور اس سے قبل بھی ملک کی اعلیٰ قیادت کے قریب رہے۔ ان کا شمار ان شخصیات میں ہوتا تھا جو ایران کی سفارتی حکمتِ عملی تشکیل دینے میں مرکزی کردار ادا کرتی رہی ہیں۔
انہوں نے 1997 سے 2005 تک ایران کے وزیر خارجہ کے طور پر خدمات انجام دیں، اس دوران ایران کی بین الاقوامی سطح پر نمائندگی اور سفارتی تعلقات کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ اسٹریٹیجک کونسل برائے امور خارجہ کے سربراہ بھی رہے، جو ملکی قیادت کو خارجہ پالیسی سے متعلق مشورے فراہم کرتی ہے۔
ڈاکٹر کمال خرازی علمی و فکری میدان میں بھی نمایاں مقام رکھتے تھے اور مختلف موضوعات پر کئی کتابوں کے مصنف تھے۔ ان کی وفات کو ایران میں سفارتکاری اور تعلیم کے شعبے میں ایک اہم نقصان قرار دیا جا رہا ہے۔
وہ یکم دسمبر 1944 کو تہران میں پیدا ہوئے اور اپنی زندگی کے دوران ملک کی خارجہ پالیسی اور علمی ترقی میں نمایاں خدمات انجام دیتے رہے۔
