کنویں خشک،فصلیں تباہ؛سری لنکا میں پانی کی قلت سنگین

پانی کے ذخائر میں کمی نے گھریلو ضروریات کے ساتھ ساتھ زراعت اور مویشی پالنے کے شعبے کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔

کنویں خشک،فصلیں تباہ؛سری لنکا میں پانی کی قلت سنگین-سری لنکا کے مختلف علاقوں میں کئی دہائیوں کی شدید ترین خشک سالی نے زندگی کے معمولات بری طرح متاثر کر دیے ہیں، جہاں ہزاروں خاندان پینے کے صاف پانی کے حصول کے لیے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

موسمیاتی تبدیلی اور ایل نینو کے اثرات سے پیدا ہونے والی غیر معمولی خشک صورتحال کے باعث ملک کے شمالی، مشرقی اور جنوبی علاقوں میں کنویں، تالاب، ندیاں اور جھیلیں خشک ہونے لگی ہیں۔ پانی کے ذخائر میں کمی نے گھریلو ضروریات کے ساتھ ساتھ زراعت اور مویشی پالنے کے شعبے کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق خشک سالی سے سری لنکا کے 19 اضلاع متاثر ہوئے ہیں جبکہ تقریباً 3 لاکھ افراد کو پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ بعض زرعی علاقوں میں معمول کے مقابلے میں بارش کی مقدار میں 85 سے 100 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے باعث فصلوں کی پیداوار متاثر ہونے سے کسانوں کی آمدنی بھی کم ہوگئی ہے۔

حکومت کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں ٹینکروں کے ذریعے پینے کا پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔ مرکزی شاہراہوں اور نسبتاً آسان رسائی والے علاقوں میں ہر چند روز بعد پانی کے ٹرک پہنچ رہے ہیں، تاہم دور دراز دیہات میں بعض خاندانوں کو پانی کے لیے کئی ہفتے انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔

متاثرہ علاقوں کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ کنوؤں میں پانی کی سطح خطرناک حد تک کم ہوچکی ہے۔ بعض مقامات پر لوگ زمین میں چھوٹے گڑھے کھود کر پانی جمع ہونے کا انتظار کرتے ہیں، جبکہ نہانے، کپڑے دھونے اور دیگر ضروریات کے لیے بھی محدود پانی پر گزارا کرنا پڑ رہا ہے۔

خشک سالی نے کسانوں اور مویشی پالنے والوں کے مسائل میں بھی اضافہ کردیا ہے۔ پانی کی کمی کے باعث فصلیں متاثر ہونے کے ساتھ مویشیوں اور پولٹری فارمز کو برقرار رکھنا مشکل ہوگیا ہے۔ کئی افراد کو آمدنی کے ذرائع ختم ہونے کے بعد یومیہ اجرت پر کام کرنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔

متاثرہ کسانوں کے مطابق پانی کی قلت نے ان کی مالی مشکلات بڑھا دی ہیں اور قرضوں کی ادائیگی سمیت روزمرہ خوراک کا انتظام بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ بعض خاندانوں کو شدید حالات میں کھانے کے اوقات کم کرنے جیسے اقدامات بھی کرنا پڑ رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق ایل نینو ایک قدرتی موسمیاتی مظہر ہے جس کے دوران وسطی اور مشرقی استوائی بحرالکاہل کے سمندری پانی کا درجہ حرارت معمول سے زیادہ ہوجاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں دنیا کے مختلف خطوں میں موسم کے غیر معمولی حالات پیدا ہوسکتے ہیں، جن میں بعض علاقوں میں خشک سالی جبکہ دیگر مقامات پر شدید بارشیں اور طوفان شامل ہیں۔

سری لنکا میں موجودہ خشک صورتحال نے پانی کے ذخائر اور زرعی پیداوار کے حوالے سے تشویش میں اضافہ کردیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگر بارشوں میں بہتری نہ آئی تو خشک سالی کے اثرات مزید سنگین ہوسکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

😠
سخت نا پسند
0 Votes
😑
بہتر ہو سکتی تھی
0 Votes
😉
ٹھیک ہے
0 Votes
🙂
اچھی ہے
0 Votes
👍
بہت اچھی ہے
0 Votes