مواد پر جائیں
تازہ ترین
تازہ ترین

اسرائیل میں 90 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل،لیکود 26 نشستوں کے ساتھ آگے

تحریر: muhammadaamiraa49@gmail.com پڑھنے کا وقت: 3 منٹ 1
اسرائیل میں 90 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل،لیکود 26 نشستوں کے ساتھ آگے
اسرائیل میں 90 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل،لیکود 26 نشستوں کے ساتھ آگے

اسرائیل میں 90 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل،لیکود 26 نشستوں کے ساتھ آگے-120 رکنی اسرائیلی پارلیمان میں نیتن یاہو کے اتحاد کو 53 نشستیں ملنے کا امکان

اسرائیل میں عام انتخابات کے بعد ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے اور تقریباً 90 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد سامنے آنے والے ابتدائی نتائج کے مطابق وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کا اتحاد پارلیمان میں سادہ اکثریت حاصل کرنے میں ناکام دکھائی دے رہا ہے۔

120 رکنی اسرائیلی پارلیمان میں نیتن یاہو کے اتحاد کو 53 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ اپوزیشن رہنما گادی آئزن کوٹ کے اتحاد کو 48 نشستیں مل سکتی ہیں۔ عرب جماعتوں قائمہ المشترکہ اور قائمہ العربیہ کو بالترتیب 12 اور 7 نشستیں ملنے کا امکان ہے۔

ابتدائی نتائج کے مطابق نیتن یاہو کی جماعت لیکود 26 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے، تاہم ان کے اتحادی اتمار بن گویر اور بے ذلیل سموٹرچ کی جماعتوں کو نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ گزشتہ اسمبلی میں دونوں جماعتوں کے پاس مجموعی طور پر 20 نشستیں تھیں، جبکہ اس مرتبہ ان کی مشترکہ نشستوں کی تعداد کم ہوکر 13 رہنے کا امکان ہے۔ دونوں رہنماؤں نے غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کی حمایت کی تھی۔

اپوزیشن اتحاد کی نشستوں میں گادی آئزن کوٹ کی نئی جماعت یاشار پارٹی کا حصہ 21 نشستیں بتایا جا رہا ہے، جبکہ یائر لیپڈ اور سابق وزیراعظم نفتالی بینیٹ سے وابستہ جماعتوں کو مجموعی طور پر 12 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

اسرائیل میں انتخابات کے لیے متناسب نمائندگی کا نظام رائج ہے۔ اس نظام کے تحت پورا ملک ایک انتخابی حلقہ تصور کیا جاتا ہے اور ووٹر کسی امیدوار کے بجائے سیاسی جماعت کو ووٹ دیتے ہیں۔ جماعتوں کو حاصل ہونے والے ووٹوں کے تناسب سے پارلیمان میں نشستیں دی جاتی ہیں۔

انتخابات میں ووٹنگ کا تناسب تقریباً 78 فیصد رہا۔ اسرائیل میں مقیم عرب شہریوں نے بھی بڑی تعداد میں ووٹ ڈالے، جس کے نتیجے میں عرب جماعتوں کو مجموعی طور پر 19 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ ان نتائج کے بعد عرب آبادی والے علاقوں میں جشن منائے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔

تاہم حکومت سازی کے معاملے پر عرب جماعتوں کا کردار اہم ہونے کے باوجود دونوں بڑے سیاسی اتحادوں کی جانب سے انہیں مخلوط حکومت میں شامل کرنے کے حوالے سے تحفظات سامنے آئے ہیں۔ ماضی میں سابق وزیراعظم نفتالی بینیٹ نے 2021 میں عرب جماعت کو اپنے حکومتی اتحاد میں شامل کیا تھا۔

دوسری جانب گادی آئزن کوٹ نے کہا ہے کہ عوامی مینڈیٹ نیتن یاہو کے خلاف ہے۔ انہوں نے نیتن یاہو کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسرائیلی فوج کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش نہ کریں۔

حتمی انتخابی نتائج اور اتحادی مذاکرات کے بعد ہی واضح ہوسکے گا کہ اسرائیل میں نئی حکومت کس کی قیادت میں تشکیل پاتی ہے۔

 

شیئر کریں:واٹس ایپایکسٹیلیگرام

اپنی رائے لکھیں