نواز شریف نے باجوہ اور فیض کو معاملات میں پڑنے سے منع کیا تھا،رانا ثناء اللہ- رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ نواز شریف نے باجوہ اور فیض کو اپنے معاملات سے دور رہنے کا کہا تھا
وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان نے نواز شریف کے بیان کا جس تناظر میں حوالہ دیا، اُس وقت کے حالات مختلف تھے اور جنرل باجوہ اور جنرل فیض ذاتی طور پر ان معاملات میں ملوث تھے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ نواز شریف نے اُس وقت ان افراد کی نشاندہی کرتے ہوئے انہیں مشورہ دیا تھا کہ انہیں ان معاملات میں نہیں پڑنا چاہیے۔
خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے معاملے پر بات کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کو اس موضوع پر اپنے انداز میں مؤقف پیش کرنا چاہیے۔ اس معاملے کو پختونوں کے ساتھ جوڑنا قومی یکجہتی کے لیے مناسب نہیں۔ ان کے خیال میں مولانا فضل الرحمان ان دنوں زیادہ ناراض ہیں، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ان کا غصہ کم ہوجائے گا۔
صحافی نے رانا ثناء اللہ سے محسن نقوی کے اس بیان سے متعلق سوال کیا کہ ایک جماعت کے سربراہ کو حصہ نہ ملنے پر ناراضی ہے۔
جواب میں رانا ثناء اللہ نے بتایا کہ اسی عرصے میں مولانا فضل الرحمان سے ایک ملاقات ہوئی تھی، جس میں ایاز صادق، طارق فضل چوہدری اور وہ خود بھی شریک تھے۔ اس کے بعد وزیراعظم کے ساتھ بھی ایک الگ ملاقات ہوئی، لیکن ان دونوں ملاقاتوں میں مولانا فضل الرحمان نے اس نوعیت کی کوئی بات نہیں کی۔





