مہنگائی کے خلاف فرانس بھر میں احتجاج،272 افراد گرفتار کرلیے-فرانس بھر میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور اخراجاتِ زندگی کے خلاف ہونے والے مظاہروں کے دوران جھڑپوں، آتشزدگی اور لوٹ مار کے واقعات پیش آئے۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا، جبکہ ملک بھر سے کم از کم 272 افراد کو گرفتار کرلیا گیا۔
فرانسیسی وزیر داخلہ لورینٹ نونیز کے دفتر کے مطابق مختلف شہروں میں پولیس اہلکاروں پر حملوں، دکانوں میں لوٹ مار اور سرکاری عمارتوں کو نقصان پہنچانے کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔
پیرس میں متعدد گاڑیوں اور سائیکلوں کو آگ لگا دی گئی، کوڑے دانوں میں آتشزدگی ہوئی اور کئی دکانوں میں لوٹ مار کی گئی۔ پلیس ڈی لا ریپبلک کے علاقے میں نقاب پوش مظاہرین نے پولیس اہلکاروں پر پتھر، آتش بازی کا سامان اور دیگر اشیا پھینکیں، جس کے جواب میں پولیس نے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔
احتجاج کے باعث پیرس میں کئی میٹرو اسٹیشن بھی بند کردیے گئے، جن میں شانزے لیزے اور اہم سرکاری عمارتوں کے قریب واقع اسٹیشن شامل تھے۔ تاہم مظاہرین کی بڑی تعداد نے پرامن مارچ بھی کیا اور حکومت کی معاشی پالیسیوں کے خلاف نعرے لگائے۔
فرانس کے تیسرے بڑے شہر لیون میں تقریباً 20 ہزار افراد نے مارچ میں شرکت کی، جہاں ایک سیاحتی دفتر کے اندر آگ لگنے کی اطلاع ملی۔ جنوبی شہر مارسیل میں بعض دکانوں اور میونسپل پولیس اسٹیشن کو نقصان پہنچایا گیا، جبکہ مظاہرین کچھ دیر کے لیے سٹی ہال کی لابی میں بھی داخل ہوگئے۔
مارسیل کے میئر بینوا پویان نے واقعے کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ سٹی ہال کو پہنچنے والا نقصان محدود ہے۔ حکام نے رین، ٹولوز، مونٹپیلیئر اور گرینوبل سمیت دیگر شہروں میں بھی پُرتشدد واقعات کی اطلاعات دی ہیں۔
یہ مظاہرے 2018 میں شروع ہونے والی ’یلو ویسٹ‘ تحریک کی یاد تازہ کر رہے ہیں، جس میں معاشی ناہمواری اور عوام پر بڑھتے مالی بوجھ کے خلاف آواز اٹھائی گئی تھی۔ حالیہ احتجاج میں ہائی اسکول کے طلبہ بھی شریک ہوئے، جبکہ مختلف طلبہ تنظیموں نے ستمبر کے وسط سے جاری اسکولوں کی ناکہ بندیوں کے بعد عوام سے مظاہروں میں شامل ہونے کی اپیل کی تھی۔
فرانس کی بڑی مزدور یونین سی جی ٹی نے بھی احتجاج کی حمایت کرتے ہوئے اجرتوں اور پنشن میں اضافے، قیمتوں میں کمی اور عوامی خدمات کے تحفظ کا مطالبہ کیا ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ پیٹرول، توانائی اور اشیائے خورونوش کی بڑھتی قیمتوں نے عام شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے۔





