آئیے امریکہ اور ایران کے درمیان زیر بحث آنے والے کسی بھی معاہدے میں چند اہم نکات پر نظر ڈالتے ہیں۔
ایران کا جوہری پروگرام:
امریکا چاہتا ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر روک دے، لیکن تہران کا کہنا ہے کہ ایسی کوئی بھی پابندیاں محدود تعداد کے لیے ہونی چاہئیں۔
ایران کا یورینیم کا ذخیرہ:
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ ایران کے 400 کلوگرام (880lbs) انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو اپنی تحویل میں لینا چاہتا ہے۔ تہران نے اس مطالبے کو مسترد کر دیا ہے۔
آبنائے ہرمز:
ایران کا اصرار ہے کہ جب تک امریکہ ایرانی بندرگاہوں پر سے اپنی ناکہ بندی نہیں ہٹاتا تب تک وہ آبی گزرگاہ میں جہاز رانی پر پابندیاں برقرار رکھے گا۔ لیکن ٹرمپ کا کہنا ہے کہ جب تک کوئی معاہدہ نہیں ہو جاتا ناکہ بندی برقرار رہے گی۔
منجمد اثاثے:
ایرانی حکام کسی بھی پائیدار معاہدے کے تحت پابندیوں میں ریلیف اور 20 بلین ڈالر کے اثاثوں کو غیر منجمد کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
جنگ کی تلافی:
ایران امریکی اور اسرائیلی حملوں سے ہونے والے نقصانات کے معاوضے کا بھی مطالبہ کر رہا ہے، جس کی رقم تقریباً 270 بلین ڈالر ہے۔