تہران پر ہونے والے حالیہ اسرائیلی حملوں کے بعد ایرانی حکام نے تصدیق کی ہے کہ ان حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے داماد اور بہو شہید ہو گئے ہیں۔
اسلام آباد میں قائم ایرانی سفارت خانے کے ترجمان کے مطابق ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب موصول ہونے والی اطلاعات میں بتایا گیا کہ امریکی و اسرائیلی مشترکہ حملوں کے دوران سپریم لیڈر کے اہل خانہ کو نشانہ بنایا گیا۔ ترجمان نے بتایا کہ شہید ہونے والوں میں زہرا حداد عادل شامل ہیں، جو مجتبیٰ خامنہ ای کی اہلیہ اور سپریم لیڈر کی بہو تھیں، جبکہ خامنہ ای کے داماد کی شہادت کی بھی تصدیق کی گئی ہے۔
اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں کو ’’ابتدائی کارروائی‘‘ قرار دیا گیا ہے۔ اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق ان حملوں میں تقریباً 30 اہم ایرانی شخصیات کو نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیل کے ریاستی نشریاتی ادارے نے دعویٰ کیا کہ سپریم لیڈر کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای، جنہیں ممکنہ جانشین سمجھا جاتا تھا، بھی حملوں میں مارے گئے ہیں، تاہم اس دعوے کی ایرانی حکام نے باضابطہ تصدیق نہیں کی۔
اسرائیلی چینل 12 کی رپورٹ کے مطابق تہران میں واقع سپریم لیڈر کے کمپاؤنڈ پر تقریباً 30 بم گرائے گئے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ حملے کے وقت خامنہ ای زیر زمین موجود تھے، تاہم وہ ان مخصوص بنکروں میں موجود نہیں تھے جہاں صرف مخصوص بھاری بم ہی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ سیٹلائٹ تصاویر میں کمپاؤنڈ میں بڑے پیمانے پر تباہی کے شواہد سامنے آئے ہیں۔
ادھر ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ ’’جہاں تک میں جانتا ہوں‘‘ سپریم لیڈر زندہ ہیں۔ انہوں نے اسرائیلی دعوؤں میں بیان کیے گئے وسیع جانی نقصان کی بھی تردید کی۔
اسرائیلی ذرائع نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ حملوں میں پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر جنرل محمد پاکپور، وزیر دفاع عزیز ناصر زادہ، آرمی چیف سید عبدالرحیم موسوی، سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی اور سابق اعلیٰ عہدیدار علی شمخانی کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ بعض غیر مصدقہ اطلاعات میں علی شمخانی کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا ہے، تاہم ایرانی حکام کی جانب سے اس حوالے سے کوئی حتمی بیان سامنے نہیں آیا۔
اسرائیلی حکام نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ انہوں نے پہلی بار کسی خودمختار ریاست کے سربراہ کو براہ راست نشانہ بنانے کی کوشش کی، تاہم اس حوالے سے ہفتہ اور اتوار کی درمیانی رات تک کوئی باضابطہ سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا۔
دوسری جانب ایران میں سرکاری سطح پر حالات کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جبکہ خطے میں کشیدگی میں غیر معمولی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ مختلف عالمی مبصرین کے مطابق اگر ان حملوں کی مکمل تفصیلات اور جانی نقصانات کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال میں ایک بڑی پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔