جیفری ایپسٹین سے متعلق امریکی محکمہ انصاف کی ایک دستاویز میں انکشاف کیا گیا ہے کہ انہیں امریکی وزارت دفاع کے مرکزی ادارے پینٹاگون اور ایف بی آئی کی عمارتوں کی خریداری کی پیشکش کی گئی تھی۔
دستاویز کے مطابق مجوزہ فروخت کی قیمت 116 ملین ڈالر رکھی گئی تھی۔ اگر یہ معاہدہ طے پا جاتا تو ایپسٹین ایک امریکی سرکاری عمارت کے مالک بن سکتے تھے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایک ای میل میں ایف بی آئی کے ایک مخبر نے ایپسٹین کو اسرائیلی خفیہ ادارے موساد کا ایجنٹ قرار دیا تھا۔ تاہم اس حوالے سے سرکاری سطح پر کسی حتمی تصدیق یا تردید کی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔
دستاویز میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایپسٹین کے سابق اسرائیلی وزیراعظم ایہود براک سے قریبی روابط تھے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ 2013 سے 2017 کے دوران ایہود براک متعدد بار ایپسٹین کی نیویارک رہائش گاہ پر گئے۔
رپورٹ میں شامل الزامات اور دعوؤں پر متعلقہ فریقین کی جانب سے باضابطہ مؤقف سامنے آنا باقی ہے۔