مواد پر جائیں
تازہ ترین
تازہ ترین

ٹرمپ کے کاروبار اور حکومتی معاہدے ڈیموکریٹس کے نشانے پر آگئے

تحریر: muhammadaamiraa49@gmail.com پڑھنے کا وقت: 3 منٹ 1
ٹرمپ کے کاروبار اور حکومتی معاہدے ڈیموکریٹس کے نشانے پر آگئے
ٹرمپ کے کاروبار اور حکومتی معاہدے ڈیموکریٹس کے نشانے پر آگئے

ٹرمپ کے کاروبار اور حکومتی معاہدے ڈیموکریٹس کے نشانے پر آگئے-امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے لیے نئی مشکلات پیدا ہونے کا امکان ہے، کیونکہ وسط مدتی انتخابات میں کامیابی کے بعد ڈیموکریٹس نے حکومتی اقدامات کی تحقیقات کے لیے ماہر تفتیش کاروں اور انسدادِ بدعنوانی کے وکلا کی بھرتی شروع کردی ہے۔

امریکی اخبار واشنگٹن ایگزامینر کے مطابق ڈیموکریٹس جنوری میں کانگریس کے دونوں ایوانوں کا کنٹرول سنبھالنے کی تیاری کر رہے ہیں، جس کے بعد انہیں تحقیقات اور دستاویزات طلب کرنے کے مزید اختیارات حاصل ہوجائیں گے۔

سینیٹ کے سرکاری ایمپلائمنٹ آفس کے ذریعے دو ملازمتوں کے اشتہارات جاری کیے گئے ہیں۔ ان میں سے ایک اشتہار سینیٹ کی ہوم لینڈ سیکیورٹی اینڈ گورنمنٹ افیئرز کمیٹی کے نئے چیئرمین کے لیے تفتیش کاروں اور نگرانی کے امور کے قانونی مشیروں کی بھرتی سے متعلق ہے۔

امیدواروں میں صحافیوں، وکلا، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں، ڈیٹا تجزیہ کاروں اور کانگریسی عملے کو ترجیح دی جائے گی، جنہیں پیچیدہ تحقیقات اور بڑی تعداد میں دستاویزات کا جائزہ لینے کا تجربہ حاصل ہو۔

دوسرا اشتہار انسدادِ بدعنوانی کے ماہر وکیل کے لیے جاری کیا گیا ہے، جس کی ذمہ داریوں میں سرکاری عہدیداروں کے مفادات کے ٹکراؤ، مالی گوشواروں، لابنگ، غیر ملکی اثر و رسوخ اور حکومتی احتساب سے متعلق معاملات شامل ہوں گے۔

دونوں آسامیوں کے لیے درخواست جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 نومبر مقرر کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ڈیموکریٹس کی ممکنہ تحقیقات کا دائرہ ٹرمپ خاندان کے کاروباری معاملات، سرکاری ٹھیکوں، امیگریشن پالیسیوں اور جیفری ایپسٹین سے متعلق دستاویزات کے انتظام تک پھیل سکتا ہے۔

امریکی ایوان نمائندگان کی نگرانی کمیٹی کی قیادت کے لیے نامزد ڈیموکریٹ رکن رابرٹ گارشیا نے انتخابات کے بعد ممکنہ تحقیقاتی اہداف کو دو لفظوں میں پیغام دیا کہ اپنے وکلا تیار رکھیں۔

اسی طرح سینیٹر رون وائیڈن نے بھی سوشل میڈیا پر ایک لفظ لکھ کر ڈیموکریٹس کے آئندہ لائحہ عمل کا اشارہ دیا، جس کا مطلب تھا کہ اب دستاویزات اور ریکارڈ طلب کرنے کے سمن جاری ہوں گے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق تحقیقات کے ممکنہ اہداف میں ٹرمپ سے منسلک کرپٹو کرنسی کاروبار، کارپوریٹ عطیہ دہندگان اور وفاقی امداد یا سرکاری ٹھیکے حاصل کرنے والی کمپنیاں بھی شامل ہوسکتی ہیں۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے بدعنوانی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ڈیموکریٹس کی ممکنہ تحقیقات کو سیاسی بنیادوں پر کارروائی قرار دیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان اولیویا ویلز نے رائٹرز سے گفتگو میں کہا کہ ڈیموکریٹس کی توجہ امریکی عوام کی زندگی بہتر بنانے کے بجائے ٹرمپ کے ایجنڈے میں رکاوٹیں ڈالنے پر مرکوز ہے۔

ادھر ڈیموکریٹک رہنما چک شومر نے کہا ہے کہ نئی کانگریس میں پارٹی کی اولین ترجیح صحت، رہائش اور روزمرہ اخراجات میں کمی لانا ہوگی۔

نئی کانگریس کے اجلاس کے بعد ڈیموکریٹس کو کمیٹیوں میں دستاویزات طلب کرنے اور گواہوں کو طلب کرنے کے اختیارات حاصل ہوجائیں گے، تاہم ٹرمپ انتظامیہ انتظامی استحقاق اور عدالتی کارروائی کے ذریعے بعض مطالبات کو چیلنج کرسکتی ہے۔

شیئر کریں:واٹس ایپایکسٹیلیگرام

اپنی رائے لکھیں