سفارتکاری کا تقاضا ہے ہمارے امریکا سے تعلقات اچھے رہنے چاہئیں،رانا ثنا اللہ -صوبوں کا معاملہ پارلیمنٹ میں آناچاہیے،پارلیمانی کمیٹی بننی چاہیے
وزیراعظم کے مشیر اور سینیٹر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ سفارتکاری کا تقاضا ہے ہمارے امریکا سے تعلقات اچھے رہنے چاہئیں، سیاسی وعسکری قیادت نے امریکا سے تعلقات کو اچھے طریقے سے سمجھا، ایران بھی پاکستان پر اعتماد کر رہاہے، ہمیں سعودی عرب کا بھی اعتماد حاصل ہے، صوبوں کا معاملہ پارلیمنٹ میں آناچاہیے،پارلیمانی کمیٹی بننی چاہیے، مولانافضل الرحمان نے کبھی اپنے بندے کو گورنر لگانے کا نہیں کہا، مولانافضل الرحمان نے کے پی کے اقتدارمیں کوئی حصہ نہیں مانگا تھا،مولانافضل الرحمان کو کے پی کے معاملات کے حوالے سے ساتھ ملانا چاہیے، پی ٹی آئی28ویں ترمیم اورصوبوں کوسپورٹ نہیں کریگی، بانی پی ٹی آئی صدارتی نظام لانا اور نئے صوبے بنانا چاہتے تھے،بانی پی ٹی آئی کا اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ملکریہ منصوبہ تھا،میرانہیں خیال کہ تحریک انصاف کو کوئی آپشن دیا گیا ہو۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ یہ غلط ہے کہ ہماری پالیسی ٹرمپ سے اچھے تعلقات قائم کرنا ہے، مخالفین کہتے تھے کہ ٹرمپ آئے گا تو پتا چل جائے گا، ہمیں ٹرمپ سے ڈرایا جا رہا تھا،ہم نے ٹرمپ سے دوستی نہیں کی،صدر ٹرمپ نے پاک بھارت جنگ رکوائی،ٹرمپ نے معرکہ حق میں کردار ادا کیا،ہم نے ان کے کردار کو تسلیم کیا۔ راناثنااللہ نے کہا کہ سفارتکاری کا تقاضا ہے ہمارے امریکا سے تعلقات اچھے رہنے چاہئیں، سیاسی وعسکری قیادت نے امریکا سے تعلقات کو اچھے طریقے سے سمجھا، ایران بھی پاکستان پر اعتماد کر رہاہے، ہمیں سعودی عرب کا بھی اعتماد حاصل ہے، جنگ ختم کرنے کیلئے پاکستان نے جتنی کوششیں کیں کسی نے نہیں کیں، ٹرمپ سے تعلقات بنائے رکھے ہوتے تو ایران،سعودیہ سے کیسے تعلقات رکھے جا سکتے تھے؟ہمارے امریکا،ایران اور سعودی عرب سے تعلقات شخصیت نہیں،ریاستی سطح کے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے بلاول بھٹو کو دعوت دی تھی، وزیراعظم اور بلاول بھٹو کی ون آن ون ملاقات بھی ہوئی، ملاقات میں نئے صوبوں سمیت تمام مسائل پر بات ہوئی، انتظامی یونٹس اور خودمختار بلدیاتی نظام بنیادی اہمیت کاحامل ہے، صوبوں کا معاملہ پارلیمنٹ میں آناچاہیے،پارلیمانی کمیٹی بننی چاہیے، صوبوں سے متعلق پارلیمانی کمیٹی میں تمام جماعتوں کی نمائندگی ہونی چاہیے، پارلیمانی کمیٹی میں پارلیمنٹ سے باہر موجود افراد کو بھی ہوناچاہیے۔ا نہوں نے کہا کہ صوبوں کا فیصلہ اتفاق رائے سے ہونا چاہیے، اتفاق رائے کا وقت آئے گا تون لیگ بھرپور کردار ادا کریگی، مولانافضل الرحمان نے کبھی اپنے بندے کو گورنر لگانے کا نہیں کہا، مولانافضل الرحمان نے کے پی کے اقتدارمیں کوئی حصہ نہیں مانگا تھا،مولانافضل الرحمان کو کے پی کے معاملات کے حوالے سے ساتھ ملانا چاہیے، مولانافضل الرحمان اور بیٹے کو نوٹس بھجوائے گئے،ان سے متفق نہیں۔راناثنااللہ نے کہا کہ کراس فائر بند ہونی چاہیے،مولانافضل الرحمان سے کوئی حساب نہیں چکانا،دہشتگردی کے خلاف کامیابی حاصل کرنے کے سواکوئی آپشن نہیں، شہدا کی قربانیوں کا اعتراف ہے کہ ہم دہشتگردی کیخلاف جنگ پر توجہ دیں،مولانافضل الرحمان نے بات کی ہے تو ہمیں ان سے بات کرنی چاہیے،ہماری طرف سے باتیں ہوئیں تومولانافضل الرحمان کا غصہ مزیدبڑھا، وزیراعظم کاخیال ہے مولانافضل الرحمان والے معاملے سے نقصان ہو سکتا ہے، مولانافضل الرحمان سے حالیہ دنوں میں بات نہیں ہوئی، جب شروعات ہوئی تومولانا اسعد محمود سے بات ہوئی تھی،نوٹس کے معاملات سیٹل ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بیرسٹر گوہر اور سہیل آفریدی محسن نقوی سے ملتے رہے ہیں، بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ہونے کو نرم گوشہ کہا جا رہا ہے تو یہ غلط ہے، پیغامات ملتے تھے،بیانیے بنتے تھے،اس لئے ملاقاتیں بندہوئی تھیں، پی ٹی آئی28ویں ترمیم اورصوبوں کوسپورٹ نہیں کریگی، بانی پی ٹی آئی صدارتی نظام لانا اور نئے صوبے بنانا چاہتے تھے،بانی پی ٹی آئی کا اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ملکریہ منصوبہ تھا،میرانہیں خیال کہ تحریک انصاف کو کوئی آپشن دیا گیا ہو۔





