ایران جنگ نے ریپبلکنز کو انتخابی نقصان پہنچایا،ٹرمپ کا اعتراف-امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعتراف کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ ریپبلکن پارٹی کی وسط مدتی انتخابات میں شکست کی اہم وجوہات میں شامل تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ جنگ کے باعث پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، جس نے انتخابی نتائج پر اثر ڈالا۔
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ نائب صدر جے ڈی وینس کے اس بیان سے اتفاق کرتے ہیں کہ ایران جنگ کے باعث ریپبلکنز کو شکست کا سامنا کرنا پڑا؟ اس پر صدر نے کہا کہ ان کے خیال میں یہ بات بڑی حد تک درست ہے، کیونکہ جنگ کی وجہ سے ایندھن کی قیمتیں بڑھیں۔
تاہم ٹرمپ نے واضح کیا کہ اگر انہیں دوبارہ فیصلہ کرنے کا موقع ملے تو وہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا فیصلہ پھر بھی کریں گے۔ ان کا مؤقف تھا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف کارروائی کے حامی وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ کو عہدے سے ہٹانے کے امکان کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنا کام اچھے طریقے سے انجام دے رہے ہیں۔
اس سے قبل نائب صدر جے ڈی وینس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا تھا کہ ریپبلکن پارٹی کی انتخابی شکست کی وجہ ایران جنگ تھی۔ ان کے مطابق صدر ٹرمپ بھی اس بات کا اظہار کر چکے ہیں کہ جنگ نے انتخابی نتائج پر اثر ڈالا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی ضروری تھی۔
دوسری جانب وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس نے ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کر لی، جس کے بعد کانگریس کا کنٹرول ریپبلکنز سے ڈیموکریٹس کے پاس چلا گیا۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں ڈیموکریٹس کو قانون سازی، ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف تحقیقات اور اہم حکومتی تقرریوں کی منظوری روکنے کے اختیارات حاصل ہو گئے ہیں۔
انتخابی نتائج کے بعد وائٹ ہاؤس نے سوشل میڈیا پر صدر ٹرمپ کی اوول آفس میں موجودگی کی تصویر شیئر کرتے ہوئے پیغام دیا کہ ٹرمپ اب بھی امریکا کے صدر ہیں۔ تصویر کے ساتھ طنزیہ انداز میں یہ بھی لکھا گیا کہ اس معاملے پر توجہ دینے کا شکریہ۔





