آبنائے ہرمز کا نام’’آبنائے ٹرمپ‘‘رکھنے کی تجویز
آبنائے ہرمز کا نام’’آبنائے ٹرمپ‘‘رکھنے کی تجویز
آبنائے ہرمز کا نام’’آبنائے ٹرمپ‘‘رکھنے کی تجویز-امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کا نام تبدیل کرکے اسے ’’آبنائے ٹرمپ‘‘ قرار دینے کی تجویز دے دی۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں کہا کہ اگر آبنائے ہرمز پر امریکا کا کنٹرول ہے تو پھر اس کا نام بھی تبدیل کرکے ’’آبنائے ٹرمپ‘‘ رکھ دینا چاہیے۔ انہوں نے اپنے مخصوص طنزیہ انداز میں کہا کہ اس نام کے بعد آبنائے ہرمز بھی امریکا کی طرح مزید ’’ہاٹ‘‘ ہوجائے گا۔
امریکی صدر نے ایک مرتبہ پھر دعویٰ کیا کہ واشنگٹن نے آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کرلیا ہے، تاہم ایران اس دعوے کو مسترد کرتا ہے۔ خطے میں امریکا، ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی بھی برقرار ہے۔
آبنائے ہرمز کا نام تبدیل کرنے سے متعلق ٹرمپ کی یہ تجویز جغرافیائی مقامات کے نام تبدیل کرنے کے حوالے سے ان کے سابقہ مؤقف کے تسلسل کے طور پر سامنے آئی ہے۔ اس سے قبل وہ خلیج میکسیکو کو امریکی سرکاری استعمال میں ’’خلیج امریکا‘‘ کہنے کی کوشش کرچکے ہیں، جبکہ جھیل اونٹاریو کے نام سے متعلق بھی متبادل نام کی تجاویز سامنے آچکی ہیں۔
ٹرمپ کی جانب سے واشنگٹن ڈی سی میں واقع معروف کینیڈی سینٹر پر اپنا نام نمایاں کرنے کی کوشش بھی خبروں میں رہی ہے۔
دوسری جانب ایران کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے تناظر میں امریکی صدر نے اسرائیلی عوام کو یقین دہانی کراتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔
ایک عوامی نشریاتی ادارے کو دیے گئے ٹیلی فونک انٹرویو میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو فکر نہیں کرنی چاہیے، کیونکہ وہ امریکا کے صدر ہیں اور اسرائیل کی حفاظت کی ذمہ داری بھی وہ خود سنبھالیں گے۔
