مواد پر جائیں
تازہ ترین
قومی خبریں

محمود خان اچکزئی کا وزیراعظم سے مذاکرات کی دعوت دینے کا مطالبہ

تحریر: muhammadaamiraa49@gmail.com پڑھنے کا وقت: 4 منٹ 3
محمود خان اچکزئی کا وزیراعظم سے مذاکرات کی دعوت دینے کا مطالبہ
محمود خان اچکزئی کا وزیراعظم سے مذاکرات کی دعوت دینے کا مطالبہ

محمود خان اچکزئی کا وزیراعظم سے مذاکرات کی دعوت دینے کا مطالبہ- قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ اگر حکومت سیاسی مذاکرات کے لیے سنجیدہ ہے تو وزیراعظم شہباز شریف خود اپوزیشن کو دعوت دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کا مذاق اڑانے والوں پر اعتماد کرنا مشکل ہے اور اب بات چیت کے نام پر غیر سنجیدہ رویہ قبول نہیں کیا جائے گا۔

محمود خان اچکزئی نے بیرسٹر گوہر اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ میں ارکان کی تقاریر کا ریکارڈ محفوظ رکھنا آئینی تقاضا ہے تاکہ عوام اپنے نمائندوں کی بات سن سکیں اور ان کی کارکردگی کے بارے میں فیصلہ کر سکیں۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمانی تقاریر قوموں کی تاریخ کا اہم حصہ ہوتی ہیں، تاہم اسمبلی میں ارکان کو اپنے آئینی حقوق کے لیے بھی جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔ ان کے مطابق اسپیکر کے اختیارات قانون اور قواعد کے مطابق استعمال ہونے چاہئیں، جبکہ ارکان کے پروڈکشن آرڈرز کے معاملے میں بھی یکساں اصول اپنائے جانے چاہئیں۔

اپوزیشن لیڈر نے دعویٰ کیا کہ ان کی گزشتہ تقریر کو اصل دورانیے سے مختلف انداز میں پیش کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تقریر میں ملک کے خلاف کوئی بات نہیں کی گئی تھی۔ انہوں نے فرانس میں احتجاجی مظاہروں کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جمہوری معاشروں میں احتجاج سے نمٹنے کے لیے مختلف طریقے اختیار کیے جاتے ہیں۔

محمود خان اچکزئی نے کہا کہ اپوزیشن کی جانب سے مذاکرات کے لیے بانی پاکستان تحریک انصاف سے ملاقات کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق سیاسی بات چیت کے لیے اپوزیشن کی سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ مولانا فضل الرحمان وزیراعظم سے ملاقات کے لیے گئے تھے۔

انہوں نے حکومت میں مبینہ بدعنوانی کے الزامات کی تحقیقات کے لیے خواجہ آصف کی سربراہی میں کمیٹی قائم کرنے کی تجویز بھی دی۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن غیر جمہوری نظام کے خلاف آئینی اور جمہوری طریقے سے جدوجہد جاری رکھے گی اور پارلیمنٹ کو بااختیار بنانے کی ضرورت ہے۔

سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں سیاسی اور معاشی بحرانوں سے نمٹنے کے لیے آئین و قانون کی بالادستی اور عدل و انصاف کا قیام ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ عوام اور حکمرانوں کے درمیان اعتماد کا فقدان بڑھ رہا ہے، جبکہ ان کے بقول مقدمات اور ایف آئی آرز کے ذریعے سیاسی مخالفین کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ راجہ ناصر عباس نے 8 فروری 2026 کے انتخابی عمل پر بھی اعتراضات اٹھائے اور عوامی مینڈیٹ کے تحفظ پر زور دیا۔

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ان کی جماعت نے ہمیشہ پاکستان اور ریاست کو مقدم رکھنے کی بات کی ہے، لیکن اس کے باوجود پی ٹی آئی کے ارکان کو وفاداری کے حوالے سے سوالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کی کوششیں کی گئیں اور ان کی جماعت خلوص نیت سے بات چیت کے لیے تیار رہی۔

بیرسٹر گوہر نے پارلیمنٹ کے ارکان کو تحفظ فراہم کرنے اور انہیں آزادی سے عوامی مسائل اجاگر کرنے کا موقع دینے کا مطالبہ بھی کیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی کی تختیاں ہٹانے اور توڑنے جیسے اقدامات سے سیاسی کشیدگی اور عوامی نفرت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

پی ٹی آئی چیئرمین نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے اہل خانہ کے بعض افراد بھی جیل میں ہیں اور اس صورت حال پر عوام جواب طلب کریں گے۔

انہوں نے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اس خطرے کا خاتمہ ضروری ہے، تاہم دہشت گردی کے خلاف اقدامات کو سیاسی انتقام سے الگ رکھا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق نیشنل ایکشن پلان کے تحت کارروائیاں ہونی چاہئیں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کو سیاسی مخالفت کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے۔

شیئر کریں:واٹس ایپایکسٹیلیگرام

اپنی رائے لکھیں