ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو 10، 10 سال قید کی سزا-انسداد دہشت گردی عدالت نے بیریئر ہٹانے اور کارِ سرکار میں مداخلت کے مقدمے میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو 10، 10 سال قید کی سزا سنا دی ہے۔ عدالت نے دونوں ملزمان پر جرمانے بھی عائد کیے ہیں۔
اڈیالہ جیل میں قائم انسداد دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے مقدمے کا فیصلہ سنایا۔ عدالتی حکم کے مطابق مختلف قانونی دفعات کے تحت دونوں ملزمان کو سزائیں دی گئیں، جبکہ مجموعی طور پر ہر ملزم پر 50 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔
مقدمے کا اندراج 25 اکتوبر 2024 کو کیا گیا تھا، جبکہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ پر 7 اکتوبر کو فردِ جرم عائد کی گئی تھی۔ مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت نے ملزمان کے دفاع کے لیے اسٹیٹ کونسل مقرر کیا تھا۔ اسٹیٹ کونسل عاطف محمود نے استغاثہ کے گواہان پر جرح کی، جبکہ پراسیکیوشن کی جانب سے مجموعی طور پر سات گواہ عدالت میں پیش کیے گئے۔
عدالتی حکم کے مطابق تین الگ الگ دفعات کے تحت سزاؤں کی مجموعی مدت 13 سال بنتی تھی، تاہم دفعہ 182 کے تحت حاصل رعایت کے باعث دونوں ملزمان کو 10، 10 سال قید کاٹنا ہوگی۔





