ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ اگر ایران کے خلاف کوئی نئی کارروائی کی گئی تو اس کا جواب پہلے سے زیادہ شدید اور مختلف نوعیت کا ہوگا۔ ان کے مطابق ممکنہ اہداف کی نشاندہی بھی کر لی گئی ہے۔
ابوالفضل شکارچی کا کہنا تھا کہ ایران اپنی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام کرے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایران کی تیل برآمدات میں رکاوٹ پیدا کی گئی تو خطے میں تیل کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے۔