امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی، جہاں دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر حملوں کے الزامات عائد کیے ہیں۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے امریکی اہداف پر میزائل اور ڈرون حملے کیے۔
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق حملوں میں امریکی ففتھ فلیٹ کے ہیڈکوارٹر، فضائی اڈوں اور ہیلی کاپٹروں کو نشانہ بنایا گیا۔ پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب ایک ایرانی آئل ٹینکر پر حملے کے بعد ایک جہاز پر بھی میزائل داغے گئے۔
پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی سلامتی کو متاثر کرنے کی کوششوں کی قیمت امریکا کو چکانا پڑے گی۔ دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ نے بحرین میں ففتھ فلیٹ کے ہیڈکوارٹر اور ایئربیس پر حملے کے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے۔
ادھر کویتی فوج کے مطابق ملک کا فضائی دفاعی نظام میزائل اور ڈرون حملوں کو روکنے کے لیے سرگرم رہا۔ حکام کا کہنا ہے کہ مختلف علاقوں میں سنی جانے والی دھماکوں کی آوازیں دفاعی کارروائیوں کے نتیجے میں آئیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی جانب سے ہمسایہ ممالک کی سمت داغے گئے متعدد بیلسٹک میزائل اپنے اہداف تک نہیں پہنچ سکے۔ بیان کے مطابق کویت کی جانب فائر کیے گئے دو میزائل راستے میں ہی گر گئے۔ تاہم روسی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ کویت پر حملوں کو روکنے میں پیٹریاٹ دفاعی نظام مؤثر ثابت نہیں ہوا۔
روسی میڈیا کی جانب سے جاری ویڈیوز میں مبینہ طور پر شہریوں کو میزائلوں کی پرواز اور فضائی سرگرمیوں کی ریکارڈنگ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ بعض رپورٹس میں ایک ٹریفک حادثے کا بھی ذکر کیا گیا ہے جو ان واقعات کے دوران پیش آیا۔
ایرانی میڈیا کا مؤقف ہے کہ امریکی دفاعی نظام ایک میزائل کو روکنے میں ناکام رہا جو کویت کے ایک غیر فوجی علاقے میں گرا۔ اسی دوران بحرین میں بھی فضائی دفاعی نظام کو فعال کر دیا گیا اور احتیاطی سائرن بجائے گئے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق بحرین کی جانب داغے گئے تین میزائل مشترکہ دفاعی کارروائی کے دوران تباہ کر دیے گئے، جبکہ بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی تین ڈرون کوششیں بھی ناکام بنا دی گئیں۔
فریقین کے متضاد دعووں کے باعث صورتحال کے حوالے سے آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق تاحال ممکن نہیں ہو سکی۔