راولپنڈی: پاکستان میں بھارتی ریاستی سرپرستی میں مبینہ دہشت گردی سے متعلق نئے شواہد سامنے آنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق فالس فلیگ آپریشنز اور سرحد پار دہشت گردی کے ذریعے خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، جبکہ گرفتار ملزم عبدالمجید سے حاصل ہونے والے مواد کو اس سلسلے میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق حالیہ واقعات کے بعد ایسے شواہد سامنے آئے ہیں جن سے خطے میں سرگرم نیٹ ورکس اور ان کی مبینہ بیرونی معاونت کی نشاندہی ہوتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے متعدد بار ان معاملات پر شواہد دنیا کے سامنے رکھے گئے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ بھارتی افواج سے منسلک عناصر کے بارے میں بھی دعوے سامنے آئے ہیں کہ وہ مبینہ طور پر بعض کارروائیوں کی نگرانی میں ملوث رہے ہیں، تاہم ان دعوؤں پر آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
سکیورٹی حکام کے مطابق پاکستان نے متعدد مواقع پر ایسے شواہد عالمی فورمز پر پیش کیے ہیں جن میں مبینہ دہشت گرد نیٹ ورکس، ان کی تربیت اور سہولت کاری سے متعلق معلومات شامل ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں کشیدگی اور الزامات کے اس سلسلے سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو رہی ہے، اور اس معاملے کے حل کے لیے سفارتی سطح پر بات چیت اور شواہد کی آزادانہ جانچ ضروری ہے۔