آبنائے ہرمز میں ڈیجیٹل سپلائی لائنز بھی خطرے کی زد میں، عالمی انٹرنیٹ نظام متاثر ہونے کا خدشہ
آبنائے ہرمز میں زیرِ سمندر فائبر آپٹک کیبلز کی سکیورٹی پر ایک بار پھر عالمی تشویش بڑھ گئی ہے، جہاں یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کسی بھی کشیدگی یا حادثے کی صورت میں نہ صرف توانائی کی ترسیل بلکہ ڈیجیٹل رابطے بھی شدید متاثر ہو سکتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق یہ اہم آبی گزرگاہ عالمی تیل کی ترسیل کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل معیشت کیلئے بھی نہایت اہم حیثیت رکھتی ہے، کیونکہ سمندر کی تہہ میں بچھائی گئی فائبر آپٹک کیبلز ایشیا، یورپ اور افریقہ کو آپس میں جوڑتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق دنیا کا بڑا حصہ انٹرنیٹ ڈیٹا انہی سب میرین کیبلز کے ذریعے منتقل ہوتا ہے، جس کے باعث کسی بھی نقصان کی صورت میں انٹرنیٹ سروسز، مالی لین دین، ای کامرس اور کلاؤڈ سسٹمز متاثر ہو سکتے ہیں۔
خطے کے ممالک بشمول متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب نے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور مصنوعی ذہانت کے منصوبوں میں بڑی سرمایہ کاری کی ہے، جو ان ہی زیرِ سمندر نیٹ ورکس پر انحصار کرتے ہیں۔
توانائی اور جغرافیائی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں کشیدگی یا بحری سرگرمیوں میں اضافہ ان حساس کیبلز کیلئے خطرہ بن سکتا ہے۔ ماضی میں بھی ایسے واقعات سامنے آ چکے ہیں جن میں بحری جہازوں کی سرگرمیوں کے باعث کیبلز کو نقصان پہنچا۔
اگرچہ ان کیبلز کی مرمت ممکن ہے، تاہم کشیدہ حالات میں سکیورٹی اور اجازت ناموں کے مسائل اس عمل کو طویل اور پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق سیٹلائٹ سسٹمز موجود ہونے کے باوجود وہ سب میرین کیبلز کا مکمل متبادل نہیں ہیں، کیونکہ ان کی گنجائش محدود اور لاگت زیادہ ہوتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس حساس علاقے میں کسی بھی بڑی خرابی یا رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو اس کے اثرات پاکستان سمیت پورے خطے کی انٹرنیٹ سروسز، ڈیجیٹل معیشت اور عالمی رابطوں پر پڑ سکتے ہیں۔