بیجنگ: چین نے ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ایک بڑی پیش رفت کرتے ہوئے 600 کلومیٹر فی گھنٹہ رفتار والی جدید میگلیو ٹرین کا پروٹوٹائپ مکمل کر لیا ہے۔
چائنا ریلوے رولنگ اسٹاک کارپوریشن چائنا ریلوے رولنگ اسٹاک کارپوریشن کی تیار کردہ یہ ٹرین مقناطیسی لیویٹیشن (Maglev) ٹیکنالوجی پر کام کرتی ہے، جس میں ٹرین پٹری سے اوپر اٹھ کر سفر کرتی ہے، نتیجتاً رگڑ ختم ہو جاتی ہے اور غیر معمولی رفتار حاصل کی جاتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ ٹرین صفر سے 600 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار صرف 3.5 منٹ میں حاصل کر سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق بعض ٹیسٹوں میں اس نے اس سے بھی زیادہ رفتار ریکارڈ کی ہے۔
اس ٹرین کی نمایاں خصوصیات میں کم شور، کم توانائی کا استعمال اور ماحول دوست ڈیزائن شامل ہے، جس سے کاربن کا اخراج تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہ ٹیکنالوجی طویل فاصلے کے سفر کو انتہائی تیز اور مؤثر بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے، جس سے بیجنگ اور شنگھائی جیسے شہروں کے درمیان سفر کا وقت نمایاں طور پر کم ہو سکتا ہے۔
🔴 چین نے تاریخ رقم کر دی! 🚄
600 کلومیٹر فی گھنٹہ کی دھوم!
میگلیو پروٹوٹائپ 5 سال کی جانچ کے بعد مکمل تیار۔
صفر سے 600 کلومیٹر فی گھنٹہ صرف 3.5 منٹ میں! ⚡
ابھی یہ زمین پر سب سے تیز زمینی نقل و حمل بن چکا ہے۔
مستقبل کا سفر آ گیا ہے۔ 🌍 pic.twitter.com/qWePgpye9p— TARIQ MASOOD BUTT🇵🇰 (@BUTT_566) April 28, 2026
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ منصوبہ مکمل طور پر تجارتی بنیادوں پر شروع ہو گیا تو یہ مستقبل میں ہوائی سفر کا مضبوط متبادل ثابت ہو سکتا ہے۔
چین اس وقت دنیا کا سب سے بڑا ہائی اسپیڈ ریل نیٹ ورک رکھتا ہے اور اب میگلیو ٹیکنالوجی کے ذریعے نقل و حمل کے شعبے میں نئی تاریخ رقم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔