واشنگٹن: امریکہ نے ایران کے خلاف اپنی پابندیوں کی پالیسی مزید سخت کرتے ہوئے 35 اداروں اور شخصیات پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ان اداروں اور افراد پر الزام ہے کہ وہ ایران کے بینکاری نظام کو سہولت فراہم کر رہے تھے اور اربوں ڈالر مالیت کی تیل کی ترسیل میں معاونت کرتے رہے ہیں۔
محکمہ خزانہ کے ذیلی ادارے آفس آف فارن ایسٹس کنٹرول نے واضح کیا ہے کہ ایسے بینک اور مالیاتی ادارے بھی پابندیوں کی زد میں آ سکتے ہیں جو ایران سے منسلک کمپنیوں کے ساتھ کاروبار کرتے ہیں یا مالی لین دین میں شامل ہیں، خصوصاً وہ معاملات جن کا تعلق بحری راستوں اور ادائیگیوں سے ہو۔
امریکی حکام نے چین کے صوبے شینڈونگ میں سرگرم بعض آئل ریفائنریز کا بھی ذکر کیا ہے اور کہا ہے کہ وہاں قائم کئی آزاد کمپنیاں ایرانی تیل کی درآمد اور ریفائننگ میں ملوث ہیں۔
واشنگٹن کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات ایران کی معاشی سرگرمیوں اور تیل کی برآمدات پر دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی کا حصہ ہیں، جبکہ عالمی مالیاتی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے نگرانی مزید سخت کی جا رہی ہے۔