ابوظبی: متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے تیل پیدا کرنے والے بڑے ممالک کی تنظیم اوپیک اور اوپیک پلس سے علیحدگی کا اعلان کر دیا ہے۔
اماراتی خبر ایجنسی کے مطابق یہ فیصلہ یکم مئی 2026 سے نافذ العمل ہوگا، جس کے بعد عالمی تیل منڈی میں اہم تبدیلیوں کی توقع کی جا رہی ہے۔
حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اب تیل کی فروخت اور پیداوار کی پالیسی میں مکمل خود مختاری حاصل کرے گا۔
واضح رہے کہ تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک کا قیام 1960 میں عمل میں آیا تھا، جس میں سعودی عرب، ایران، عراق اور کویت جیسے اہم ممالک شامل ہیں۔ بعد ازاں 2016 میں اوپیک پلس اتحاد قائم ہوا جس میں روس سمیت دیگر غیر اوپیک ممالک بھی شامل ہوئے۔ یہ اتحاد عالمی تیل کی پیداوار اور قیمتوں کے تعین میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔
متحدہ عرب امارات کا (اوپیک) آرگنائزیشن آف پیٹرولیم ایکسپورٹ کنٹریز کو چھوڑنے کا فیصلہ۔
اب یو اے ای پر تیل کی پیداوار کی کوئی حد لاگو نہیں ہوگی۔ pic.twitter.com/pEsxQgdBsC— Shahid Qureshi (@ShahidQurashii) April 28, 2026
ماہرین کے مطابق اوپیک اور اوپیک پلس دنیا کی تقریباً 40 سے 50 فیصد تیل پیداوار کو متاثر کرتے ہیں۔
خام تیل کی عالمی منڈی پر نظر رکھنے والی معروف امریکی ویب سائٹ کے مطابق اوپیک کے تیسرے بڑے تیل پیدا کرنے والے ملک کا یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی توانائی منڈی پہلے ہی شدید غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران جنگ کے باعث کشیدگی اپنے نویں ہفتے میں داخل ہو چکی ہے جبکہ آبنائے ہرمز کی صورتحال بھی غیر مستحکم ہے، جس کے باعث خام تیل کی قیمت 110 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہے۔
مزید بتایا گیا ہے کہ یہ فیصلہ اچانک نہیں بلکہ کافی عرصے سے زیر غور تھا، کیونکہ پیداوار کی حدوں پر یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان اختلافات بڑھتے جا رہے تھے۔
اوپیک پلس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات کی پیداوار تقریباً 30 لاکھ بیرل یومیہ تک محدود تھی، جبکہ ملک کی اصل پیداواری صلاحیت 40 لاکھ بیرل سے زیادہ ہے۔ امارات کا ہدف ہے کہ وہ 2027 تک پیداوار کو 50 لاکھ بیرل یومیہ تک لے جائے۔